Ruh-ul-Quran - Saad : 84
قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ
قَالَ : اس نے فرمایا فَالْحَقُّ ۡ : یہ حق (سچ) وَالْحَقَّ : اور سچ اَقُوْلُ : میں کہتا ہوں
ارشاد ہوا، پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں
قَالَ فَالْحَقُّ ز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ ۔ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْـکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (صٓ: 84، 85) (ارشاد ہوا، پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں۔ کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے جہنم کو بھردوں گا۔ ) شیطان کے چیلنج کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا اور نہایت بےنیازی سے فرمایا کہ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم سب کو گمراہ کرکے چھوڑو گے، تو میں تم سے یہ کہتا ہوں اور تم خوب جانتے ہو کہ یہی بات حق ہے اور میں ہمیشہ حق ہی کہتا ہوں کہ میں تمہیں بھی اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو بھی جہنم میں ڈالوں گا اور ایسے ہی لوگوں سے جہنم کو بھروں گا۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ میں تجھ سے اور تیرے پیرو کاروں سے جہنم کو بھروں گا تو اس سے مراد صرف ابلیس نہیں بلکہ پورا گروہ شیاطین جو اس کے ساتھ مل کر نوع انسانی کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے، مراد ہے۔
Top