تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 46
اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا﴿46﴾
- اَلْمَالُمال
- وَالْبَنُوْنَاور بیٹے
- زِيْنَةُزینت
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- وَالْبٰقِيٰتُاور باقی رہنے والی
- الصّٰلِحٰتُنیکیاں
- خَيْرٌبہتر
- عِنْدَ رَبِّكَتیرے رب کے نزدیک
- ثَوَابًاثواب میں
- وَّخَيْرٌاور بہتر
- اَمَلًاآرزو میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ باعتبار ثواب اور باعتبار امید تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلا
خالی زینتیں : عرب میں چونکہ حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندانی اور قبائلی عصیت ہی پر تھا اس وجہ سے آدمی کی بڑائی کی علامتوں میں سے مال کے ساتھ اولاد کی کثرت بھی تھی۔ وہ اپنی باہمی مفاخرت کی مجلسوں میں کثرت اولاد کا ذکر خاص طور پر کرتے۔ اوپر جو مفاخرت مذکور ہوئی ہے اس میں بھی انا اکثر منک مالا و اعز نفرا، کے الفاظ اسی ذہن کی غمازی کررہے ہیں۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد جنکے عشق میں تم دیوانے ہو رہے ہو۔ یہ تو محض اس دنیا کی زینتیں ہیں اور یہ دنیا اور اسکی تمام زینتیں چند روزہ ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی بقا اور پائداری حاصل نہیں۔ خدا کے ہاں اجر اور امید کے لحاظ سے بہتر وہ اعمال صالحہ ہیں جو ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ اگر امید باندھنی ہے تو ان سے باندھو۔ ابدی برکات و نتائج انہی سے حاصل ہوں گے۔