Urwatul-Wusqaa - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے
اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایک اللہ کی بندگی نہ کروں : 22۔ غور کرو کہ قرآن کریم کا انداز کتنا پیارا اور کتنا اصلاحانہ ہے اس اللہ کے بندے نے اپنے آپ کو مخاطب کرکے عرض کیا کہ مجھے کی حق پہنچتا ہے کہ میں اس ایک اللہ کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے ایک حقیر سے قطرہ سے پیدا فرمایا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، اس نے ایک چیز کو اپنی طرف نسب دی اور دوسری چیز کو ان سب کی طرف نسبت دے دی اور قوم کو یہ باور کرا دیا کہ وہی تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے اور اس حقیر بوند سے تم بھی پیدا ہوئے ہو اگر تم کو عزت واقتدار اور مال و دولت ‘ خاندان اور برادری زیادہ مل گئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کسی اور راستے اور طریقہ تخلیق پر پیدا کیے گئے ہو اور پھر یہ بھی کہ تمہارا اس دنیا سے رخصت ہونے کا طریقہ بھی کمزوروں اور غریبوں سے کوئی الگ نہیں بلکہ ایک روز ایسا آئے گا کہ تم بھی خالی ہاتھ اس طرح اس دنیا سے رخصت ہوجاؤ گے جس طرح سارے انسان رخصت ہوتے ہیں گویا تم دنیا میں آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہو اور اس طرح تم دنیا سے جاؤ گے نہیں بلکہ تم کو ایک دن لے جایا جائے گا پھر درمیان میں یہ جو دن تم کو میسر آگئے ہیں ان دونوں پر اس قدر تم کو ناز آخر کیوں ؟ ہاں ! اگر تم نہیں مانتے اور ان کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کرتے تو آخر میں اپنے رب کی عبادت سے سرتابی کیوں کروں جب کہ ہم اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب پیش کرنا ہے اور اگر عذاب الہی کے مستحق ہوگئے تو کون ہے آخر جو ہماری سفارش کرکے ہمیں بچائے گا ۔
Top