Urwatul-Wusqaa - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ (اے میرے رب ) مجھ کو شیطان نے ایذا اور تکلیف پہنچائی ہے
ہمارے بندے ایوب کا ذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا 41۔ ایوب (علیہ السلام) کا مختصر تذکرہ قبل ازیں سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور اس کے بعد اس جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ ایوب (علیہ السلام) کو جب تکالیف اور مصائب نے گھیر لیا تو آپ نے بارگاہ ربِ ذوالجلال والاکرام میں مناجات کی۔ یہ وہ وقت تھا کہ آپ کو ہر قسم کے رنج و غم اور آلام نے گھیر لیا تھا لیکن آپ کی پکار کو دیکھو کہ بارگاہ صمدی میں کوئی گلہ شکوہ نہیں اور نہ ہی ان دکھ دینے والوں کی شکایت ہے۔ صبر کا دامن آپ نے تھام لیا اور غم واندوہ کے سمندر میں ڈوب کر اپنے رب کریم سے التجا کر رہے ہیں کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان کی طرف سے بہت ہی دکھ اور عذاب پہنچ چکا ہے۔ بلاشبہ جو کچھ ہوا وہ مشیت ایزدی کے مطابق ہوا ہے۔ اگرچہ تکلیف اور مسرت ، مرض اور صھت سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے لیکن اچھی چیزوں کی نسبت تو اللہ کی طرف کی جاتی ہے اور کی جانی چاہیے اور تکلیف دہ امور کی نسبت اللہ کے بندے اپنی طرف یا شیطان کی طرف ہی کرتے ہیں کیونکہ کوئی تکلیف بھی اللہ تعالیٰ کی رضا سے نہیں آتی بلکہ مشیت سے آتی ہے اس جگہ شیطان سے مراد وہ قوم کا سردار ہے جس نے آپ کے خلاف تحریک چلائی اور آپ کو نقصان پہنچایا اور ہر دکھ اور تکلیف کو دور کرنے والا اور ٹالنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ایوب (علیہ السلام) بھی اس دکھ اور مصیبت کو ٹالنے کی اپیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کر رہے ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) کب ہوئے ؟ کس خاندان سے تعلق تھا ؟ آپ کا زمانہ کونسا ہے اور آپ کو کیا کیا دکھ درد اور مصیبت پہنچی ؟ وہ سردار کون تھا ؟ اس کا ذکر آپ کی سرگزشت میں کردیا گیا ہے جو سورة الانبیاء میں بیان کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی ، جلد ششم ص 212۔
Top