45. Al-Jaathiyaالجاثية
Crouching · Meccan · 37 ayahs · 4 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰمٓۚ﴿1﴾
حم۔تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿2﴾
یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ﴿3﴾
حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ماننے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ﴿4﴾
اور خود تمہاری پیدائش میں، اور ان جانوروں میں جو اس نے (زمین میں) پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو یقین کریں۔وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿5﴾
نیز رات اور دن کے آنے جانے میں اور اللہ نے آسمان سے رزق کا جو ذریعہ اتارا، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اس میں اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿7﴾
برا ہو اس جھوٹے گنہگار کا۔یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿8﴾
جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے پڑھ کر سنائی جارہی ہوتی ہیں، پھر بھی وہ تکبر کے عالم میں اس طرح (کفر پر) اڑا رہتا ہے جیسے اس نے وہ آیتیں سنی ہی نہیں۔ لہذا ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ﴿9﴾
اور جب ہماری آیتوں میں سے کوئی آیت ایسے شخص کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق بناتا ہے، ایسے لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ﴿10﴾
ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے نہ وہ ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ وہ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے بجائے اپنا رکھوالا بنا رکھا ہے۔ اور ان کے حصے میں ایک زبردست عذاب آئے گا۔هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ع﴿11﴾
یہ (قرآن) سراپا ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ﴿12﴾
اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿13﴾
اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیں۔قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾
(اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے، ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ لوگوں کو ان کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ﴿15﴾
جو شخص بھی نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس واپس لایا جائے گا۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿16﴾
اور ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی تھی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا تھا، اور انہیں دنیا جہان کے لوگوں پر فوقیت بخشی تھی۔وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿17﴾
اور انہیں کھلے کھلے احکام دیے تھے، اس کے بعد ان میں جو اختلاف پیدا ہوا وہ ان کے پاس علم آجانے کے بعد ہی ہوا، صرف اس لیے کہ ان کو ایک دوسرے سے ضد ہوگئی تھی۔ یقینا تمہارا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿18﴾
پھر (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں دین کی ایک خاص شریعت پر رکھا ہے، لہذا تم اسی کی پیروی کرو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿19﴾
وہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ذرا بھی کام نہیں آسکتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴿20﴾
یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ یقین کریں ان کے لیے منزل تک پہنچانے کا ذریعہ اور سراپا رحمت ہے۔اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ع﴿21﴾
جن لوگوں نے برے برے کاموں کا ارتکاب کیا ہے، کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ انہیں ہم ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا جینا اور مرنا ایک ہی جیسا ہوجائے ؟ کتنی بری بات ہے جو یہ طے کیے ہوئے ہیں۔وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿22﴾
اللہ نے سارے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس لیے کیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ دیا جائے، اور دیتے وقت ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے۔اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿23﴾
پھر کیا تم نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہے، اور علم کے باوجود اللہ نے اسے گمراہی میں ڈال دیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے بعد کون ہے جو اسے راستے پر لائے ؟ کیا پھر بھی تم لوگ سبق نہیں لیتے ؟وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ﴿24﴾
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : جو کچھ زندگی ہے بس یہی ہماری دنیوی زندگی ہے، (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں کوئی اور نہیں، زمانہ ہی ہلاک کردیتا ہے۔ حالانکہ اس بات کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے، بس وہمی اندازے لگاتے ہیں۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾
اور جب ہماری آیتیں پوری وضاحت کے ساتھ ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہنے کے سوا ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ : اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے) لے آؤ۔قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿26﴾
کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا، جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ﴿27﴾
اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت آکھڑی ہوگی، اس دن جو لوگ باطل پر ہیں، وہ سخت نقصان اٹھائیں گے۔وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿28﴾
اور تم ہر گروہ کو دیکھو گے کہ وہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا، (اور کہا جائے گا کہ) آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿29﴾
یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ تم جو کچھ کرتے تھے، ہم اس سب کو لکھوا لیا کرتے تھے۔فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ﴿30﴾
چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو تو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہی کھلی ہوئی کامیابی ہے۔وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿31﴾
رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا تھا، (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا کیا تمہارے سامنے میری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ پھر بھی تم نے تکبر سے کام لیا، اور مجرم بنے رہے۔وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ﴿32﴾
اور جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور قیامت وہ حقیقت ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں ہے، تو تم یہ کہتے تھے کہ : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے ؟ اس کے بارے میں ہم جو کچھ خیال کرتے ہیں، بس ایک گمان سا ہوتا ہے، اور ہمیں یقین بالکل نہیں ہے۔وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿33﴾
اور (اس موقع پر) انہوں نے جو اعمال کیے تھے، ان کی برائیاں کھل کر ان کے سامنے آجائیں گی، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے، وہی ان کو آگھیرے گی،وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿34﴾
اور ان سے کہا جائے گا کہ : آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم نے یہ بات بھلا ڈالی تھی کہ تمہیں اپنے اس دن کا سامنا کرنا ہوگا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے، اور تمہیں کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿35﴾
یہ سب اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا تھا اور دنیوی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ایسے لوگوں کو نہ وہاں سے نکالا جائے گا، اور نہ ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا۔فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿36﴾
غرض تعریف تمام تر اللہ کی ہے جو سارے آسمانوں کا بھی مالک ہے، زمین کا بھی مالک، اور تمام جہانوں کا بھی مالک۔وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿37﴾
اور تمام تر بڑائی اسی کو حاصل ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔