52. At-Turالطور
The Mount · Meccan · 49 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الطُّوْرِۙ﴿1﴾
قسم ہے کوہ طور کی۔وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ﴿2﴾
اور اس کتاب کی جو ایک کھلے ہوئےفِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ﴿3﴾
صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ﴿4﴾
اور قسم ہے بیت معمور کی۔وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ﴿5﴾
اور بلند کی ہوئی چھت کی۔وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ﴿6﴾
اور بھرے ہوئے سمندر کیاِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ﴿7﴾
کہ تمہارے پروردگار کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ﴿8﴾
کوئی ہیں ہے جو اسے روک سکے۔یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ﴿9﴾
جس دن آسمان تھر تھرا کر لرز اٹھے گا۔وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ﴿10﴾
اور پہاڑ ہولناک طریقے سے چل پڑیں گے۔فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ﴿11﴾
تو اس دن بڑی خرابی ہوگی ان کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ﴿12﴾
جو بےہودہ باتوں میں ڈوبے ہوئے کھیل رہے ہیںیَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ﴿13﴾
اس دن جب انہیں دھکے دے دے کر جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا۔هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿14﴾
(کہ) یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھےاَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ﴿15﴾
بھلا کیا یہ جادو ہے یا تمہیں (اب بھی) کچھ نظر نہیں آرہا ؟اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿16﴾
داخل ہوجاؤ اس میں، پھر تم صبر کرو، یا نہ کرو، تمہارے لیے برابر ہے۔ تمہیں انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھےاِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ﴿17﴾
متقی لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ﴿18﴾
ان کے پروردگار نے انہیں جس طرح نوازا اور ان کے پروردگار ہی نے انہیں دوزخ کے عذاب سے جس طرح بچایا، اس کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ﴿19﴾
(ان سے کہا جائے گا کہ) خوب مزے سے کھاؤ پیو، ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ﴿20﴾
وہ ایک قطار میں لگی ہوئی اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا بیاہ کردیں گے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ﴿21﴾
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہے تو ان کی اولاد کو ہم انہی کے ساتھ شامل کردیں گے، اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے۔ ہر انسان کی جان اپنی کمائی کے بدلے رہن رکھی ہوئی ہے۔وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ﴿22﴾
اور ہم انہیں ایک کے بعد ایک پھل اور گوشت، جو بھی ان کا دل چاہے گا، دیے چلے جائیں گے۔یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ﴿23﴾
وہاں وہ ایسے جام شراب پر (دوستانہ) چھینا جھپٹی کر رہے ہوں گے جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گناہ ہوگا۔وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ﴿24﴾
اور ان کے اردگرد نوجوان پھر رہے ہوں گے جو انہی (کی خدمت) کے لیے مخصوص ہوں گے، ایسے (خوبصورت) جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ﴿25﴾
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ﴿26﴾
کہیں گے کہ : ہم پہلے جب اپنے گھر والوں (یعنی دنیا) میں تھے تو ڈرے سہمے رہتے تھے۔فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ﴿27﴾
آخر اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا، اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ع﴿28﴾
ہم اس سے پہلے اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی ہے جو بڑا محسن، بہت مہربان ہے۔فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ﴿29﴾
لہذا (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہو، نہ مجنون۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ﴿30﴾
بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم زمانے کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں ؟قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ﴿31﴾
کہہ دو کہ : کرلو انتظار، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿32﴾
کیا ان کی عقلیں ان کو یہی کچھ کرنے کو کہتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿33﴾
ہاں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ : ان صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ (ضد میں) ایمان نہیں لارہے۔فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ﴿34﴾
اگر یہ واقعے سچے ہیں تو اس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں۔اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ﴿35﴾
کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے، یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ﴿36﴾
یا کیا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے ہیں ؟ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ﴿37﴾
کیا تمہارے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں، یا وہ داروغہ بنے ہوئے ہیں ؟اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ﴿38﴾
یا ان کے لئے کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سنتا ہو وہ کوئی واضح ثبوت تو لائے۔اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ﴿39﴾
کیا اللہ کے حصے میں تو بیٹیاں ہیں اور بیٹے تمہارے حصے میں آئے ہیں ؟اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ﴿40﴾
اور کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو جس کی وجہ سے یہ تاوان کے بوجھ میں دبے جارہے ہیں ؟اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ﴿41﴾
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ لیتے ہوں ؟اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ﴿42﴾
کیا یہ کوئی مکر کرنا چاہتے ہیں ؟ تو درحقیقت جو کافر ہیں، مکر تو انہی پر پڑے گا۔اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿43﴾
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے ؟ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ کر رہے ہیں۔وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ﴿44﴾
اور اگر یہ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتے ہوئے بھی دیکھ لیں تو یہ کہیں گے کہ یہ کوئی گہرا بادل ہے۔فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ﴿45﴾
لہذا (اے پیغمبر) تم انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو ، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس میں ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ﴿46﴾
جس دن ان کی مکاری ان کے کچھ کام نہیں آئے گی، اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿47﴾
اور اس سے پہلے بھی ان ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿48﴾
اور تم اپنے پروردگار کے حکم پر جمے رہو، کیونکہ تم ہماری نگاہوں میں ہو، اور جب تم اٹھتے ہو اس وقت اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیا کرو۔وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ع﴿49﴾
اور کچھ رات کو بھی اس کی تسبیح کرو، اور اس وقت بھی جب ستارے ڈوبتے ہیں۔