Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو ؟
منکرین کا سوال کہ قیامت کب آئے گی اور ان کا جواب منکرین کے سامنے جب قیامت آنے اور وہاں پیشی ہونے کی باتیں آتی تھیں اور انہیں وعید سنائی جاتی تھی تو مذاق کے طور پر انکار کے پیرایہ میں سوال کرتے تھے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا ﴿قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ 1۪﴾ (آپ فرما دیجئے کہ علم صرف اللہ کے پاس ہے) ﴿وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ0026﴾ (اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میر اکام بتانا سمجھانا واضح طور پر بیان کرنا ہے (اگر مجھے قیامت کے واقع ہونے کا وقت معلوم ہوتا تو تمہیں بتادینا) لیکن یہ بھی نہ سمجھو کہ اس کے وقوع کی تاریخ معلوم نہ ہوسکی تو وہ آنے والی ہی نہیں۔ جب قیامت آنے لگے گی اور اس کا وقوع قریب ہوجائے گا تو کافروں کا برا حال ہوگا۔ عذاب نظر آئے گا تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے ان پر ذلت سوار ہوگی، سورة ٴ زمر میں فرمایا ﴿وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ﴾ (اور اے مخاطب تو قیامت کے دن دیکھے گا کہ جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے) اور سورة ٴ عبس میں فرمایا ﴿وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۙ0040 تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ0041 اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ (رح) 0042﴾ (اور بہت سے چہروں پر اس روز سیاہی ہوگی ان پر کدورت چھائی ہوگی۔ یہ لوگ کافر و فاجر ہوں گے) ۔
Top