Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو
وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ ص وَاِنَّمَآ اَنَا نذَیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الملک : 25، 26) (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہہ دیجیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ ) قریش کا لغو معارضہ اور اس کا جواب گزشتہ آیت کریمہ میں وقوع قیامت پر عقلی اور واقعاتی دلیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر مختلف حوالوں سے قیامت کے آنے پر دلائل قائم کیے ہیں لیکن منکرینِ قیامت نے ان دلیلوں کے جواب میں یا تو ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا یا وقوع قیامت کو مستبعد از عقل قرار دے کر اس کا مذاق اڑایا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دلائل کے سامنے بےبس ہو کر ان کی آخری بات یہ تھی کہ اگر قیامت کا آنا واقعی حقیقت ہے اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو پھر بتائو وہ قیامت کب آئے گی۔ بظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات کہنے والے شاید یہ کہنا چاہتے ہوں کہ اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ قیامت کے آنے کا وقت فلاں ہے تو ہم اس کو تسلیم کرلیں گے اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ انھوں نے درحقیقت انکارِ قیامت کے لیے ایک راستہ نکالا تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ غیبی حقیقتوں کے بارے میں کبھی متعین وقت نہیں بتایا جاتا۔ کیونکہ اگر متعین وقت بتادیا جائے تو انسانوں کی آزمائش ختم ہوجاتی ہے اور وہ حکمت بھی بیکار ہوجاتی ہے جو ایمان بالغیب میں رکھی گئی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اولاً تو یہ وقت بتایا ہی نہیں جائے گا تو ہمیں انکار کرنے کا ایک جواز مل جائے گا۔ اور اگر وقت بتادیا گیا تو ہم کہیں گے کہ ٹھیک ہے اگر اس وقت پر قیامت آگئی تو ہمیں اسے مان لیں گے لیکن آج تو اس کا یقین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ضرور آئے گی۔ غور کیجیے ایسی صورتحال میں امرواقعہ میں کیا فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک لغو معارضہ ہے جس میں کوئی معقولیت نہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں کتنی ایسی صداقتیں ہیں جن کے وقوع کی تاریخ اور وقت کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ لیکن اس صداقت کے بارے میں ہم ہمیشہ بوقت ضرورت آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم کسی شخص کے بارے میں یہ نہیں بتاسکتے کہ وہ کب مرے گا، کیونکہ موت کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا۔ لیکن کسی شخص کی غیرمحتاط زندگی اور اس کے نامناسب رویئے کو دیکھ کر ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں کچھ احتیاط کرنی چاہیے اور اپنے رویئے کے بارے میں غور کرنا چاہیے کیونکہ ایک دن بہرحال تمہیں بھی موت آئے گی۔ اس کے جواب میں کوئی سمجھدار آدمی یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری بات کو تب تسلیم کروں گا جب یہ بتائو کہ مجھے موت کب آئے گی۔ کیونکہ اگر یہ بات بتا بھی دی جائے اور واقعی اس روز موت آجائے تو اسے اس کا کیا فائدہ پہنچے گا۔ اس لیے دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ موت کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں تو تمہیں صاف صاف خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں تاکہ تم اس کے لیے تیاری کرسکو۔ اور مزید یہ کہ قیامت کے آنے پر ایمان لانا چونکہ نفس ایمان کا حصہ ہے، اس لیے اگر یہ بتادیا جائے کہ فلاں روز قیامت آرہی ہے تو پھر اس پر ایمان لانا کوئی امتحان نہیں رہے گا کیونکہ کوئی چیز جب غیب سے شہود کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو پھر اس کا ماننا یا نہ ماننا برابر ہوتا ہے۔
Top