Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ
: اور وہ کہتے ہیں
مَتٰى
: کب ہے
هٰذَا الْوَعْدُ
: یہ وعدہ
اِنْ كُنْتُمْ
: اگر ہو تم
صٰدِقِيْنَ
: سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔ یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں لگاتے جن سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور ان کاموں سے بچاتے جن میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ فرمایا دیکھو ! اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا ہے۔ پہلے فرمایا یعنی تم کو پیدا کیا اور پھر تم کو بکھیر دیا۔ پرا گندہ کردیا۔ مشرق ، مغرب شمال ، جنوب میں نسل انسانی کو پھیلا دیا۔ تمہیں زمین پر رہائش اور دیگر ضروریات اللہ تعالیٰ نے مہیا کیں۔ لہذا اس بات کو مت بھولنا کہ اسی کے سامنے اکھٹے کئے جائو گے یہاں سے ابتدا ہوئی اور ادھر انتہا ہوگی۔ جس خدا نے تم کو پیدا کیا اسی کے سامنے تمہارا حشر ہوگا۔ پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ موت وحیات کی پیدئش اس لیے کی کہ انسان کو اس کے اعمال کے اعتبار سے آزمایا جائے کہہ اچھے عمل کون کرتا ہے اور برے کون۔ تو اس طرح گویا جزائے عمل واقع ہو۔ جس طرح انسان کی پیدائش یقینی امر ہے اسی طرح جزائے عمل کا واقع ہونا بھی لازمی ہے۔ جس کا موقع اور محل قیامت ہے۔ جزائے عمل حشر کے بعد واقع ہوگا۔ اگر اس سے پہلے ہوگا تو وہ صرف تمہیدی اور ابتدائی طور پر اس کا نمونہ ہوگا۔ حقیقی طور پر جزا اور سزا کا وقت حشر کے بعدہی ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ توحید پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہے۔ اسی طرح رسالت کا ذکر بھی فرمادیا۔ کہ رسول کے بتلائے بغیر قوانین معلوم نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات میں امتیاز نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح ایمان کے اجزأمیں قیامت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور قیامت ایمان کے اہم ترین اجزأ ہیں اسکے علاوہ آسمانی کتب ، ملائکہ اور صفات الہٰی جن میں تقدیر بھی شامل ہے۔ ان پر ایمان لانا بھی اسی درجہ کا ضروری ہے ۔ البتہ وہ باتیں سب سے زیادہ ضروری ہیں جن کا تصور انسان ہر وقت اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اور رکھنا بھی چاہیے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم سب اسی ذات خداوندی کی طرف اکٹھے کئے جائوگے۔ قیامت کب آئے گی : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا حال بیان فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا۔ اے اہل ایمان اگر یہ وعدہ سچا ہے تو پورا کیوں نہیں ہوتا۔ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو قیامت کو لاکر دکھائو قرآن پاک میں دیگر مقامات پر بھی کفار کا یہ اعتراض مذکور ہے کہ اگر یہ وعدہ سچا ہے تو اسے پورا ہونا چاہیے ۔ آخر یہ کب پورا ہوگا۔ وقوع قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے : جواب میں ارشاد ہوا اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے یہ علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مجھے وقوع قیامت کا علم نہیں ہے مجھے تو اللہ نے صرف اتنا علم دیا ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کے متعلق تم کو ڈراتا ہوں ، خبردار کرتا ہوں ۔ رہا وقت کا تعین تو وہ میرے علم میں نہیں۔ وہ اللہ کے پاس اور اس نے کسی کو نہیں بتایا۔ ہمارے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ قیامت آنے والی ہے جس کی ہمیں فکر کرنی چاہیے۔ قیامت اچانک وارد ہوگی : دوسری جگہ فرمایا ایک بڑی بھاری اور بوجھل خبر ہے اور یہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی۔ لوگ غفلت میں پڑے ہوں گے اور قیامت اچانک آجائے گی۔ ایک اور جگہ فرمایا بہت عظیم خبر ہے اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ تمہیں غفلت میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اور کہیں ارشاد ہوتا ہے لو گ آپ سے سوال کرتے ہیں ایک بڑی خبر کے متعلق ۔ جس کے متعلق یہ اختلاف کرتے ہیں کوئی کہتا ہے۔ قیامت کوئی نہیں ہے ۔ کوئی کہتا ہے شاید آجائے دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی اور بربادی ہے۔ حدیث جبریل میں آتا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ سے ایمان اسلام اور احسان کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے تینوں سوالوں کا جواب دیا۔ پھر چوتھا سوال کیا۔ حضور ! یہ فرمائیے قیامت کب آئیگی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یعنی نہ بات جیسا سائل کو معلوم نہیں ایسے ہی مسول کو بھی معلوم نہیں اس کا علم نہ تیرے پاس ہے ، نہ میرے پاس ، بلکہ صرف اللہ کے پاس ہے اور اس نے کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ قیامت کا علم صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہ خاص چیزوں میں سے ہے۔ اس کے وقوع کی گھڑی کسی کو نہیں بتائی۔ قیامت کی نشانیاں : ہاں قیامت کی بعض نشانیاں بتا دیں جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی۔ خود پیغمبر ﷺ کا وجود مبارک قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا میں اور قیامت اس طرح آگے پیچھے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں ایک تھوڑی سی آگے بڑھی ہوئی ہے اور ایک ذرا پیچھے ہے۔ مراد یہ ہے اب کوئی اور شریعت نہیں آئیگی بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ دوسری جگہ ہے کہ آپ فرمادیجئے میں نہیں جانتا مجھے معلوم نہیں کہ وہ وعدہ قریب ہے یا بعید ، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں تو اتنا ہی علم ہے کہ وہ یقینا آنے والی ہے۔ الغرض نبی ﷺ کے پاس ہے۔ اور اس سلسلے میں میں تو صرکھولکر ڈر سنانے والا ہوں میرا فریضۃ اتنا ہی ہے کہ قیامت کے آنے کی خبر دے دوں اس کے وقت کا تعین میرے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ اللہ کے پاس ہے وہی اس کو جانتا ہے۔ قیامت میں کفار کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے : منکرین معاد جب قیامت کو اپنے قریب آتے ہوئے دیکھیں گے اس دن کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری آیت کے اندر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے۔ نیز فرمایا اس دن چہرے غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی۔ اور بعض چہرے بڑے خوش خوش ہوں گے۔ نورانی ہوں گے سفید ہوں گے چمکدار ہوں گے اور خوشی کرنے والے ہوں گے۔ بعض دوسرے چہروں پر کفر کی سیاہی نمایاں ہوگی اور ان پر خوف طاری ہوگا۔ اس دن اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے گا : اور کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جسے تم خود طلب کرتے تھے۔ لو ! یہ قیامت آگئی ہے تو اس طرح قیامت کے روز اللہ کا وعدہ پور اہوجائیگا الغرض اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر کیا۔ صفات الہٰی کو بیان فرمایا ، بنیادی عقائد منجملہ رسالت اور قیامت کا بیان فرمایا۔ اور پھر اعتراض کرنے والے لوگوں کا جواب دیا اور ان کے انجام کو واضح کیا ان کی گندی ذہنیت کا تجزیہ بھی کیا۔ اب کفار الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں قیامت کب آئیگی۔ قیامت کے لیے تیاری : حضور ﷺ سے ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ حضرت یہ فرمائیں قیامت کب آئے گی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا افسوس ہے تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ کہ اس کے متعلق دریافت کرتا ہے۔ عرض کیا حضور ! میں نے کوئی زیادہ سامان تو تیار نہیں کیا۔ صرف فرائض وغیرہ ہی ادا کرتا ہوں۔ عبادت و ریاضت کا کوئی اور سامان تو میرے پاس نہیں ہے یعنی میرے نامہ اعمال میں نفلی عبادت اور نفلی روزے وغیرہ کا ذخیرہ تو نہیں ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے۔ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت ضرور کھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم بےفکر ہو جائو جن کے ساتھ تم محبت رکھتے ہو۔ تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔ خصوصی اعمال میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت بڑی خوشی کی بات ہے۔ کفار عذاب سے نہیں بچ سکیں گے : توحید ، رسالت اور معاد پر ایمان لانے کی بجائے کفار کہتے تھے۔ کہ یہ محض شورو غوغا ہے۔ چند دن بعد یہ سب بلاک ہوجائیں گے۔ مزیک کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ان کی موت کے ساتھ ان کا دھندا بھی ختم ہوجائے گا۔ قیامت وغیرہ کچھ نہیں آئے گی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے پیغمبر ﷺ ان سے فرما دیجئے۔ فرض کرو۔ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ یا وہ ہم پر رحم کردے جیسا کہ ہمارا اعتقاد ہے تو کافروں کو عذاب الیم سے کون بچائے گا۔ کفار کہتے تھے شاعر نتربص بہ ریب المنون شاعری کرتے ہیں ہم چند دن اور انتظار کریں گے جیسے پہلے شاعر مر کھپ گئے ۔ اور ان کا مشن چلانے والا کوئی نہیں ۃے۔ اسی طرح یہ بھی ختم ہوجائیں گے۔ اور ان کا مشن کا میاب نہیں ہوگا۔ جواب میں فرمایا کہ فرض کرو اگر ایسا بھی ہوجائے تو اس سے کافروں کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ ہمارے ہلاک ہوجانے سے یا ہم پر رحم کئے جانے سے کفا ر کے عذاب میں کوئی فرق نہ پڑے گا۔ بہر حال انہیں عذاب سے چھڑانے والا اور پناہ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ گمراہ کون ہیں : آگے ارشاد فرمایا اے نبی ﷺ اس نے کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وت ہی ہے جو رحمان ہے۔ وہ ہم پر رحم کرے گا۔ کیونکہ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اسکی صفات اور اسکی وحدانیت پر ہمارا ایمان ہے۔ اس پر ہمارا بھروسہ ہے اس کے ہاتھ میں کامیابی ہے۔ وہ یقینا ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔ پس تمہیں جلدی ہی پتہ چل جائے گا۔ کہ کھلی گمراہی میں کون ہے۔ کہا ہم ہیں جو ایمان لائے یا تم ہو جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور توحید و معاد کا انکار کیا۔ عنقریب اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ایمان مدارنجات ، مدارسعادت اور مدار فلاح ہے۔ ہم تو خدا کی ذات پر ایمان لائے ہیں اسی پر توکل اور بھروسہ ہے۔ اہل ایمان کو اسی اعتقاد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ شفاف پانی کی نعمت عظمی : اس کے بعد اللہ جل جلالہ نے دلائل قدرت میں سے ایک اور دلیل کا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ وہ اللہ تعالٰ جس نے تمہیں وجود بخشا ، زمین بخشی ، جگہ دی ، تمام ضروریات مہیا کیں ، وہ اگر اس پانی کو جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے۔ زمین کی گہرائی میں لے جائے حالانکہ اس نے پانی کمال قدرت اور حکمت تامہ کے ساتھ اس پانی کو بارش کی صورت میں برسا کر زمین کے اندر چلا دیا ہے۔ اور انسان تھوڑی سی محنت کر کے زمین کھود کر پانی حاصل کرلیتا ہے۔ کہیں کنوں ہے۔ کہیں نلکا ہے کہیں تالاب ہیں ، نہریں جاری کردیں۔ کہیں چشمے پھوٹ پڑے اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی نعمت کو بغیر پائپ لائن کے زمین کے اندر جال کی صورت میں پھیلا دیا کہ انسان جہاں سے چاہے کھو د کر پانی حاصل کرلے ۔ یہی نہیں بلکہ زمین میں چشمے جاری کردیے۔ اسے گلنے سڑنے سے محفوظ کردیا۔ تو فرض کرو کہ وہی خدا وندی اس پانی کو اگر وہ زیادہ گہرائی میں لیجائے جو تمہاری دسترس سے باہر ہو تو بتلائو تو کون ہے جو تمہیں صاف و شفاف پانی مہیا کرے۔ تجربات شاید ہیں ک کہ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں پانی حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ کھدائی کرنی پڑتی ہے۔ عرب کے بعض خطوں میں پانی حاصل کرنے کے لیے سخت محنت اور بہت زیادہ صرفہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پانی کئی کئی سو فٹ گہرا ہے۔ ہمارے ہاں تو دس بیس فٹ پر پانی مل جاتا ہے۔ زمین بھی نرم ہے۔ مگر جہاں زمین پتھر یلی اور پانی دور ہو وہاں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ صاف و شفاف پانی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت عظمی ہے۔ جوا س نے فری عطا کی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو زمین میں چار پانچ میل کی گہرائی تک دھنسا دے تو تمہارے معبودوں میں سے کون ہے۔ جو ت میں پانی مہیا کردے۔ دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے روشنی کا بھی اسی طرح ذکر فرمایا کہ اگر وہ سورج کو روک دے تو تمہارے پا س کوئی ہے جو روشنی کو لے آئے۔ ایک فلسفی کا انجام : تفسیر جلا لین دو برزگوں نے لکھی ہے۔ پندرہ پارے جلا ل لدین سیوطی (رح) نے اور پندرہ پارے جلال لدین محلی (رح) نے جناب محلی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں ایل فلسفی سائنس دان کا واقعہ نقل کیا ہے جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کون پانی لائے گا تو اس فلسفی نے کہا کہ ہم کہتے ہیں۔ ہمارا کدال پانی لائیگا۔ یہ بیلچہ پانی لائیگا۔ ہم ان کی مدد سے زمین کھود کر پانی حاصل کرلیں گے۔ تو مولانا جلال لدین محلی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس فلسفی کو اندھا کردیا اور اس کی قوت ظاہری سلب کرلی کیونکہ اس نے غرور وتکبر کیا تھا۔ اگرچہ سزا کا اصل موقع تو حشر ہے مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ عبرت کے طور پر دنیا میں بھی ایسے مغروروں کو نمونہ کے طور پر سزا کا کچھ حصہ دے دیتا ہے۔ اختتام آیت پر اللہ رب العلٰمین : حدیث شریف میں آتا ہے جب یہ آیت پڑھی جائے تو اس کے بعد کہنا چاہیے اگر آدمی نما زکی حالت میں ہو تب بھی آہستہ سے یہ الفاظ کہہ لے آیت کے اختتام پر پڑھنا مستحب ہے گویا یہ اس آیت پاک کا جواب ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔ کہ کون ہے جو تمہارے پاس پانی لے آئے تو پڑھنے والا یا سننے والا یون کہے کہ وہ اللہ رب العٰلمین ہی ہے۔ جو پانی جیسی نعمت عظمیٰ کو مہیا کرسکتا ہے۔
Top