Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو !
منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے جواب کی زیادہ تفصیل نہیں کی ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی فرمائی ہے کہ کسی حقیقت کو مجرد اس بنیاد پر جھٹلانا کہ اس کے ظہور کا صحیح وقت نہیں بتایا جا سکتا، کھلی ہوئی سفاہت ہے۔ اس دنیا کے کتنے واقعات کا تجربہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں جن کے ظہور کا صحیح وقت اگرچہ کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ان کے وقوع کو سب مانتے ہیں۔
Top