Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ، اگر تم سچے ہو ؟
وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو 25 ؎ کفار کا یہ سوال بیسیوں دفعہ پیچھے گزر گیا اور ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سیان کو جواب بھی دیا گیا ہے اور ہم نے یہ بار بار عرض کیا ہے کہ کفار کا یہ سوال اس مقصد کے لئے نہیں تھا کہ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ قیامت فلاں سال ، فلاں مہینے اور فلاں تاریخ کو ہوگی تو وہ ایمان لے آئیں گے اور اب تک جو وہ ایمان نہیں لائے تو محض اس لئے نہیں لائے کہ ان کو سال ، ماہ اور دن کا کسی نے نہیں بتایا۔ ان کی یہ مراد بالکل نہ تھی بلکہ ہر بار ان کا یہ استفسار محض مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا اور پھر یہ بھی کہ یہ سوال فقط پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ ہی سے نہیں کیا گیا بلکہ دوسرے انبیاء کرام کی امتوں نے بھی کیا اور مقصد ان کا بھی استہزاء ہی تھا اور وہ بڑے دھڑلے سے یہ بات کہتے تھے کہ مدتیں گزر گئیں جو بھی آیا اس نے یہی کہا اور آج تک وہ نہ آئی اگر اس کو آنا ہوتا تو آج سے کبھی کی وہ آگئی ہوتی۔ ہر آنے والے نے جو اس کی خبر دی لیکن آج تک وہ نہیں آئی اور اس کو جانچنے کے لئے آخر کوئی معیار اور کوئی طریقہ کہ یہ بات حق ہے یا ناحق کچھ تو مزید بتائو کہ اس کے آنے میں ابھی کتنی دیر باقی ہے۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب یہ دیا گیا کہ تم یہ بتائو کہ اس دنیا میں کتنے آنے والوں کے متعلق تم جانتے ہو کہ وہ آتے رہے اور چلے گئے۔ تم ہی بتائو کہ کوئی آنے والا اپنی مرضی سے آیا ؟ اگر نہیں تو یہ بتا دو کہ کیا کوئی اپنی مرضی سے گیا ؟ دونوں کا جواب نفی میں ہے تو تم بتائو کہ اس آنے والے کو کس نے بھیجا اور اگر بھیج دیا تو پھر وہ کون ہے جس نے اس کو واپس بلا لیا اگر اس کا جواب تم کو معلوم نہیں ہے تو ہم سے سن لو کہ ان سب کو بھیجنے والا اللہ تھا اور واپس بھی وہی لے گیا۔ نہ بھیجتے وقت اس نے ان سے مشورہ کیا اور نہ لے جاتے وقت۔ جس طرح انسانوں کا آنا جانا تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ان گنت مخلوق ہے جس کا آنا جانا لگا رہا اور لگا ہوا ہے جس سے یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ ہر آنے والے کو جانا ہے۔ اس سے سمجھ لو کہ اس کائنات کا نظام بنانے والے نے بنایا اور اب بھی اس کو چلا رہا ہے اور جب تک اس کو منظور ہے وہ چلتا رہے گا لیکن جس طرح ہر آنے والے کے لئے جانا ہے اسی طرح اس نظام کے چلانے والے نے ایک روز اس کو بھی ختم کرنا ہے اور وہ دن جو اس کیخاتمہ کا ہوگا اسلام نے اس کو قیامت کا دن کہا ہے اگر بات تمہاری عقل میں آئی ہے تو مان لو اور یہ آخرت کے لئے کچھ تو توشہ تیار کرلو اگر بات سمجھ میں نہیں آتی تو موت تک کا انتظار کرو جب مر جائو گے تو اس وقت جاگو گے جب سب کے جاگنے کا وقت ہوجائے گا اور اس وقت تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لو گے۔ اس مضمون کو مطالعہ کرنے کا مزید خیال ہو تو غزوۃ الوثقی ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 48 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 51 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 71 ، جلد ہفتم سورة سبا کی آیت 27 ، سورة یٰسین کی آیت 48 کی تفسیر دیکھیں۔ انشاء اللہ کافی تفصیل مل جائے گی۔
Top