Anwar-ul-Bayan - Al-Haaqqa : 13
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ
فَاِذَا نُفِخَ : پھر جب پھونک دیا جائے گا فِي الصُّوْرِ : صور میں نَفْخَةٌ : پھونکنا وَّاحِدَةٌ : ایک ہی بار
سو جب صور میں پھونکا جائے گا ایک مرتبہ
قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا ﴿ يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ0018﴾ (اس دن تم پیش کیے جاؤ گے اس دن تمہاری کوئی چیز پوشیدہ نہ ہوگی) یوں تو اللہ تعالیٰ کو سب کچھ علم ہے لیکن اس نے فرشتوں سے سب کے اعمال لکھوا بھی رکھے ہیں سورة الجاثیہ میں فرمایا : ﴿هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بالْحَقِّ 1ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0029﴾ (یہ ہماری کتاب جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ بولتی ہے بلاشبہ ہم لکھوا لیتے تھے جو تم کرتے تھے) ۔
Top