Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 4
اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا
اِنَّآ : بیشک ہم اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے سَلٰسِلَا۟ : زنجیریں وَاَغْلٰلًا : اور طوق وَّسَعِيْرًا : اور دہکتی آگ
بلاشبہ ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
کافروں کے عذاب اور اہل ایمان کے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات کا تذکرہ یہ انیس آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے زنجیریں ہیں اور طوق ہیں اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی ان چیزوں کا ذکر ہے۔ دیکھو سورة ٴ یٰسین رکوع نمبر 1 اور سورة الحاقۃ رکوع نمبر 1، اس کے بعد کی آیت میں نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور ان کی ماکولات اور مشروبات اور مرغوبات اور ظروف کا تذکرہ فرمایا ہے یہ چیزیں انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کے بدلہ میں بطور انعام دی جائیں گی۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے ایسے جام سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور چند سطر کے بعد فرمایا ان حضرات کو ایسا جام پلایا جائے گا جس کی شراب میں زنجبیل یعنی سونٹھ کی آمیزش ہوگی یہ کافور اور زنجبیل وہاں کا ہوگا اور اس کا کیف اور لذت بھی بےمثال ہوگی جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہا للہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن میں جنت کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے یہ سب (سمجھانے کے لیے) نام کی حد تک ہے۔ وہاں کی چیزوں میں سے دنیا میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔
Top