Tadabbur-e-Quran - Al-Insaan : 4
اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا
اِنَّآ : بیشک ہم اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے سَلٰسِلَا۟ : زنجیریں وَاَغْلٰلًا : اور طوق وَّسَعِيْرًا : اور دہکتی آگ
ہم نے کفر کرنے والوں کے لئے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے۔
خیر اور شر میں امتیاز کا لازمی نتیجہ: یہ خیر اور شر میں امتیاز بخشے جانے کا لازمی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر و کفر دونوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت بخشی ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو انعام سے نوازے جو شکرگزاری کی راہ اختیار کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو کفر کی راہ چلیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس صلاحیت کا دیا جانا لاحاصل رہا درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کی شان حکمت سے یہ بعید ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔ کافروں کو سزا: فرمایا کہ چونکہ ہم نے انسان کو شکر اور کفر کا امتیاز بخشا ہے اس وجہ سے ہمارے ہاں شاکر اور کافر دونوں یکساں نہیں ہوں گے بلکہ ہم ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ کریں گے۔ ناشکروں کے لیے ہم نے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ان کے پاؤں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی، گردنوں میں آہنی طوق ڈالے جائیں گے اور پھر ان کو گھسیٹ کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
Top