Anwar-ul-Bayan - Hud : 98
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
(67:5) ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح : واؤ عاطفہ لقد میں لام تاکید کا اور قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور فعل ماضی کو حال سے قریب کردیتا ہے۔ زینا ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے زینت دی۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے آراستہ کیا۔ السماء موصوف الدنیا صفت، موصوف و صفت مل کر زینا کا مفعول الدنیا۔ دانیۃ اور دنیۃ کا اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اول صورت میں اس کے معنی بہت قریب اور نزدیک کے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ذلیل اور بہت حقیر کے معنی ہیں۔ اس کی جمع دنی ہے جیسے کبری کی جمع کبر اور صغری کی جمع صغر ہے۔ جب دنیا کا استعمال آخرت کے مقابلے میں ہوتا ہے تو اس کے معنی اول اور پہلے کے ہوتے ہیں اور جب قصوی کے مقابلہ میں ہوتا ہے تو اس کے معنی زیادہ قریب کے ہوتے ہیں۔ السماء الدنیا نیچے والا آسمان جو دوسرے آسمانوں سے زمین کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ بمصابیح۔ ب حرف جر مصابیح جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہے اور بوجہ غیر منصرف ہونے کے مفتوح ہے جیسے مساجد۔ مصابیح بمعنی چراغ۔ جمع ستاروں کو چراغ اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی چراغوں کی طرح روشن و تاباں ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ہم نے قریب کے آسمان کو (ستاروں کے) چراغوں سے روشن و آراستہ کر رکھا ہے۔ وجعلنھا وجوما للشیطین۔ جملہ معطوف ہے جعلنا کا عطف زینا پر ہے۔ ھا مفعول ثانی ہے۔ رجوما آلات سنگ باری رجم کی جمع ہے رجم اصل میں مصدر ہے اور جس چیز کے لئے سنگسار کیا جائے اس کے لئے بطور اسم مستعمل ہے۔ فائدہ : مطلب آیت کا یہ ہے کہ شیاطین جب ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننا چاہتے ہیں تو ان کے مارنے کے لئے ستاروں کو ہم نے آتشیں پتھر بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ستارے اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطانوں پر پتھروں کی طرح برستے ہیں بلکہ ان سے مجسم شعلے پھوٹ کر شیطانوں پر برستے ہیں۔ واعتدنا لہم عذاب السعیر : اعتدنا کا عطف زینا پر ہے لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الشیاطین ہے۔ عذاب السعیر مضاف مضاف الیہ مل کر اعتدنا کا مفعول ہے۔ السعیر۔ دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر (باب فتح) مصدر۔ بمعنی آگ بھڑکانا ۔ سے بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ مطلب یہ کہ وہ شیاطین جو ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں ان کو شہاب ثاقب کی شکل میں ستاروں سے سنگباری ہوتی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Top