Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 5
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انھیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان شیاطین کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیا ر کر رکھا ہے
وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 5) (ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انھیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان شیاطین کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیا ر کر رکھا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی ذات جلال و جمال کی جامع ہے گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کے اظہار کے لیے سات تہ بہ تہ آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور پھر اپنی کمال صنعت گری کی طرف توجہ دلائی۔ اس سے پڑھنے اور سننے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت کا عکس پڑتا اور ہیبت بیٹھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ایک مومن اپنے اللہ سے ڈرتا اور اس کی ہیبت سے سہما رہتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آسمانِ دنیا کو بڑے بڑے قمقموں سے آراستہ کرنے کا ذکر کرکے شاید یہ تصور دینا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات قدرت و جلال کی مالک ہے اور ہر عظمت اس کے سامنے سرنگوں ہے اور ہر مومن کو اس کو جلال سے لرزاں اور ترساں رہنا چاہیے۔ اسی طرح وہ ذات اپنے اندر کمال درجہ رحمت بھی رکھتی ہے۔ اس کا جلال جس طرح دلوں میں ہیبت پیدا کرتا ہے اسی طرح اس کی مخلوقات کا جمال دلوں میں اس کے لیے پیار کی جوت بھی جگاتا ہے اور اپنی ہزار کوتاہیوں کے باوجود بھی وہ بجائے مایوس ہونے کے اپنے اللہ سے امیدیں باندھتا ہے۔ ہزار سرکشی کے بعد بھی اسی کے دامن کے نیچے آتا اور اسی کے باب رحمت کو کھٹکھٹاتا ہے۔ اسلام سے پہلے کے مذاہب نے ہمیشہ پروردگار کی طرف سے آنے والے عذابوں کا ذکر کیا اور اس کے جلال کو نمایاں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کیا گیا۔ حمد ثنائے جمیل کو کہتے ہیں اور ثنائے جمیل محبت کرنے والے دل سے اٹھتی ہے۔ اس طرح قرآن کریم نے ایک اعتدال کی تعلیم دی ہے کہ اپنی سرکشی کے انجام سے ڈرو کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آسکتی ہے، لیکن اپنے اللہ سے ہمیشہ پیار اور محبت کرو کیونکہ وہ سرتاپا جمال ہے۔ سر اٹھا کر آسمانوں کو دیکھو کس طرح انھیں اس نے قمقموں سے روشن کر رکھا ہے اور ایسی حسن آرائی کی ہے کہ جب آسمان بادلوں سے صاف ہو اور چودھویں کا چاند نور برسا رہا ہو اور ستارے زمین پر روشنی بکھیر رہے ہوں اور کہکشاں حسن کی تصویر بنی جگمگا رہی ہو۔ تو کھلی فضاء اور کھلے آسمان کے نیچے دیکھنے والا اندازہ کرسکتا ہے کہ کس طرح حسن اسے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور جمال اس پر قربان ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ سے پیار ایک مومن کے انگ انگ سے اٹھتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ میں اس ذات کی نافرمانی کروں جس کی رحمت مجھے آغوش میں لینے کے لیے تیار ہے۔ وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ ” ستارے تو اللہ تعالیٰ نے آسمانِ دنیا کی جمال آرائی کے لیے قمقموں کی طرح روشن کر رکھے ہیں، لیکن ان کا ایک ضمنی فائدہ بھی ہے، وہ یہ کہ شیاطین آسمانوں پر جانے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ دور جاہلیت میں عرب کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کاہن جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ شیاطین ان کے تابع ہیں یا شیاطین سے ان کا رابطہ ہے۔ شیاطین آسمان پر جا کر یا کہیں قریب بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے ہیں اور اس طرح سے مستقبل میں ہونے والے حوادث و واقعات کی انھیں خبر ہوجاتی ہے اور وہ آکر کاہنوں کو بتاتے ہیں اور وہ انھیں باتوں پر غیب دانی کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ستاروں سے شیاطین کو سنگسار کرنے کا کام بھی لیا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ان ستاروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے دید بان (بروج) بنائے ہیں جن میں فرشتے ہر وقت پہرہ دیتے رہتے ہیں۔ اگر شیاطین عالم بالا کی سن گن لینے کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر شہابوں کے راکٹ پھینک کر انھیں تباہ کردیتے ہیں یا آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بےحدو بےحساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں اور جن کی بارش زمین پر ہر وقت ہوتی رہتی ہے وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ بہرحال دونوں باتوں سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ستارے ان شیاطین پردے نہیں مارے جاتے بلکہ ان سے شہاب ثاقب نکلتے ہیں جو شیاطین پر گرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم میں آئے ہیں اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کی بنا پر سائنسدانوں میں سب سے زیادہ معقول نظریہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلاء میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آکر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، ایڈیشن 1967 ء، جلد 15) لیکن صاحب تفسیر عزیزی نے لکھا ہے، ممکن ہے کہ ملائکہ اجزائے ہوا اور بخارات کو ستاروں سے روشن کرکے شیطانوں پر مارتے ہوں۔ مقصود اس جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا کہ شیاطین اس کو بازی گاہ بنالیں بلکہ اس نے اس کی نگرانی کا بھی سامان کیا ہے اور جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Top