Jawahir-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 94
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے رونق دی6 سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے اور رکھا ہے ان کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا
6:۔ ” ولقد زینا “ دوسری دلیل عقلی خاص۔ دلیل اول سے بطور ترقی فرمایا کہ آسمانوں کو تو میں نے پیدا کردیا، لیکن کیا پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین کسی اور نے کیا ہے ؟ نہیں نہیں یہ بھی ہم ہی نے کیا ہے۔ اسی طرح ” وجعلناھا رجوما للشیاطین “۔ تیسری دلیل عقلی خاص۔ ستاروں کو شیاطین کیلئے رجوم اور ان کی تیز آگ کو ان کے لیے عذاب ہم ہی نے بنایا کیا یہ کام کسی دوسرے کا ہے، ہرگز نہیں، اسی طرح برکات دہندہ بھی کوئی اور نہیں عذاب سعیر سے عذاب جہنم نہیں بلکہ شہاب ثاقب کا عذاب مراد ہے یہ تینوں دلائل آسمانی حالات سے متعلق ہیں۔
Top