Jawahir-ul-Quran - Al-Kahf : 74
فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا
فَانْطَلَقَا : پھر وہ دونوں چلے حَتّٰٓي : یہاں تک کہ اِذَآ اَتَيَآ : جب وہ دونوں آئے اَهْلَ قَرْيَةِ : ایک گاؤں والوں کے پاس اسْتَطْعَمَآ : دونوں نے کھانا مانگا اَهْلَهَا : اس کے باشندے فَاَبَوْا اَنْ : تو انہوں نے انکار کردیا کہ يُّضَيِّفُوْهُمَا : وہ ان کی ضیافت کریں فَوَجَدَا : پھر انہوں نے پائی (دیکھی) فِيْهَا جِدَارًا : اس میں (وہاں) ایک دیوار يُّرِيْدُ : وہ چاہتی تھی اَنْ يَّنْقَضَّ : کہ وہ گرپڑے فَاَقَامَهٗ : تو اس نے اسے سیدھا کردیا قَالَ : اس نے کہا لَوْ شِئْتَ : اگر تم چاہتے لَتَّخَذْتَ : لے لیتے عَلَيْهِ : اس پر اَجْرًا : اجرت
یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا65 تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی
65:۔ ” حتی اذا فتحنا الخ “ عذاب سے عذاب آخرت، یا جنگ بدر یا یوم فتح مکہ کا عذاب مراد ہے اب تو نہیں مانتے اور آرزو رکھتے ہیں اسلام کے خلاف ان کے منصوبے کامیاب ہوجائیں گے لیکن جب ہم نے ان پر دنیا یا آخرت کے عذاب کا دروازہ کھول دیا تو پھر دین اسلام کی سچائی کو مان لیں گے اور اس وقت وہ اپنے پروگراموں کی کامیابی اور ہر خیر و برکت سے مایوس ہوجائیں گے (روح) یہاں تک سورة کا پہلا حصہ ختم ہوا۔
Top