بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Asrar-ut-Tanzil - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰمٓ
آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو تو اس قدر فرشتے شب روز لگے ہوئے ہیں کہ ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑنے کو ہیں اور وہی فرشتے اہل زمین کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں جس کا فائدہ کفار کو بھی ایک خاص وقت تک ملتا ہے یعنی دنیا کی زندگی گزرانے میں موت اور بعد موت کافر کو نصیب نہ ہوگامگر یہ سن لیجئے کہ اگر کوئی مان لے تو اللہ بہت بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے یعنی اس کی بخشش بہت وسیع ہے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں ان کے اعمال بد بھی اللہ کے پاس جمع ہو رہے ہیں آپ اس وجہ سے کہ آپ کے ذمہ ان سے منوانا نہیں بلکہ بات پہنچانا ہے آپ پر قرآن حکیم جو عربی زبان میں نازل فرمایا گیا ہے کہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جو ام القری یعنی سب سے بہتر شہر میں بستی ہے۔ ام القری۔ مکہ مکرمہ اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک سب سے پیارا شہر بھی ہے اور اس لیے بھی عظیم ہے کہ زمین کی ابتداء اسی مقام سے ہوئی اور آبادیوں کی بنیاد یہی جگہ ہے اور اس کے ساتھ سب اردگرد والوں کو بھی یا سب اہل زمین کو بھی اور اس عظیم دن کے نتائج سے انہیں بروقت خبردار کریں جس دن ساری مخلوق کو جمع ہوکرجواب دینا ہے کہ اس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس روز لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک فریق کو جنت نصیب ہوگی جب کہ دوسرے کو دوزخ میں رہنا پڑے گا اگر حکما سب کو ایمان عطا کرنا ہوتاتو اللہ کریم سب کو ایک ہی قوم بنادیتا کوئی اختلاف نہ کرتا اور سب اللہ کی اطاعت کرتے مگر اس کی حکمت کہ اس نے فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا اب جوا س کے کرم کا طالب ہوتا یعنی جسے وہ چاہتا اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے توفیق ایمان وعمل عطا کرتا ہے اور جو لوگ ایمان نہ لاکر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں آخر کو انہیں کوئی دوست نصیب ہوگا نہ کوئی مدد کرنے والا۔ بھلا ان کا یہ عمل اللہ کے علاوہ دوسروں سے اپنے خیال فاسد میں اپنی مدد کارسازی کی امید وابستہ کررکھی ہے جبکہ ایسا ہے نہیں بلکہ یہ شان صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ سب کی ضروریات پوری فرماتا ہے اور سب کے کام بناتا ہے اس لیے کہ بنیادی طور پر کائنات کا ہر ذرہ مردہ ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے اسے زندگی یا اس کا ہونا وہی عطا کرتا ہے لہذا جس چیز سے بھی کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ہے اللہ ہی سب کے کام بناتا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
Top