بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰم۔
(1۔ 2) حم عسق۔ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و ثنا فرمائی ہے۔ چناچہ حا سے اس کا حلم اور میم سے اس کا ملک اور عین سے علم اور سین سے اس کی عزت قاف سے اپنی مخلوق پر قدرت مراد ہے یا یہ کہ حا تمام ہونے والی لڑائیاں اور میم سے سلطنتوں کی تبدیلیاں اور عین سے ہر ایک وہ وعدہ جو ہوگا اور سین سے یوسف کے زمانہ کی طرح قحط سالی کے سال اور قافل سے ہر ایک ہونے والی تہمت مراد ہے یا یہ کہ ان لفاظ کے ذریعے قسم کھائی ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے گا اور اسی حالت میں اپنے پروردگار سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل نہ کرے گا۔
Top