بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰم۔
حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ وَاِلَی (حم۔ عسق۔ اسی طرح آپ پر اور جو آپ سے پہلے ہوچکے ہیں) الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے۔ وحی بھیجتا رہا ہے) ۔ 1، 2: حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ حمؔ کو عسق سے الگ کر کے لکھا گیا ہے۔ کھیعص کو اکٹھا لکھا گیا۔ کیونکہ حم، عسق دو آیات ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حروف مقطعات تمام جدا لکھے جاتے ہیں ان کے ساتھ ملانے کیلئے اس طرح لکھا۔
Top