بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
ح م۔
حٰـمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الشوری : 1 تا 3) (ح م۔ ع س ق۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے آپ کی طرف اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے وحی کرتا رہا ہے۔ ) پہلی دونوں آیتیں حروفِ مقطعات پر مشتمل ہیں اور ان کے بارے میں ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں گفتگو کرچکے ہیں۔ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے ؟ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی تیسری آیت کے بارے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے۔ بعض اہل علم نے تو یہ کہا ہے کہ جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائدِعظیمہ سے متعلق قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں میں وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح یہ کتاب بھی اور یہ سورة بھی پروردگار وحی فرما رہا ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ کِذٰلِکَسے اشارہ ان چہ میگوئیوں کی طرف ہے جو ہر گلی کو چے، ہر چوپال اور ہر مکان میں آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کے مضامین کے حوالے سے ہورہی تھیں۔ مکہ کے چھوٹے بڑے لوگ بڑی حیرانی سے یہ باتیں کررہے تھے کہ ہم نے آبائواجداد سے ایک دین پایا ہے جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ یقینا کائنات کا خالق ومالک ہے لیکن اس نے اپنی کائنات کی دیکھ بھال اور بالخصوص زمین پر بسنے والی مخلوقات کی ضروریات کے حوالے سے اپنے بیشتر اختیارات بہت سی قوتوں کو سونپ رکھے ہیں۔ کیونکہ اتنی بڑی کائنات کی دیکھ بھال اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی ضروریات کی فراہمی ایک شہنشاہِ معظم کے بس کی بات نہیں۔ زمین کے کسی دوردراز گوشے یا آسمان کے کسی کونے میں کوئی واقعہ ہوتا ہے یا کوئی اپنی محرومیوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تو وہ پکار اس تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔ لازماً درمیان میں واسطے ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات سے اس کی ضروریات کو پورا کریں۔ اور اگر ضروری سمجھیں تو اللہ تعالیٰ تک ان کی دعائوں کو پہنچا دیں۔ چناچہ اس مفروضے کی بنیاد پر انھوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ یہ درمیان کے جتنے واسطے ہیں چاہیں وہ بتوں اور مجسموں کی شکل میں ہوں یا دیوتائوں اور اوتاروں کی شکل میں، سب کے لیے قربانیاں کرنا اور انھیں خوش رکھنا اپنی زندگی کی آسانیوں کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ ان کی ناخوشی ہمارے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ان کا گمان یہ تھا کہ ہمیں آبائواجداد سے ایک شریعت ملی ہے جس میں اوامرو نواہی بھی ہیں اور حلت و حرمت کے بہت سے حوالے ہیں۔ ان کی پابندی ہمارے لیے ضروری ہے۔ رہی یہ بات کہ ہمارے آبائواجداد نے ہمارے لیے کوئی تحریری ماخذ نہیں چھوڑا، کوئی سند ہمارے پاس نہیں جس سے ہمیں یہ جاننے میں آسانی ہو کہ ہمیں یہ شریعت کن حوالوں اور واسطوں سے ملی۔ کیونکہ آبائواجداد تو ہمارے معبودوں اور احکام دینے والوں میں سے نہیں ہیں۔ لیکن وہ اس خیال سے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے تھے کہ صدیوں سے ہمارے اندر جو طریقہ رائج ہے اور کبھی کسی نے مخالفت نہیں کی تو اس سے خودبخود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یقینا اس کی کوئی سند ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے کسی مصدقہ واسطے سے ہم تک یہ احکام پہنچائے ہوں گے۔ اب جبکہ ہم ہی میں سے ایک شخص جسے ہم جانتے پہچانتے ہیں اور وہ قریش کے قبیلے کا ایک فرد ہے وہ اچانک اٹھ کر یہ بات کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنایا ہے، مجھ پر کتاب نازل کی جارہی ہے۔ اس لیے میں تمہیں اس کی روشنی میں یہ بات کہتا ہوں کہ تمہارے اعتقادات اور تمہارے مصنوعی شرعی قوانین تمام تر جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ تم جس ملت ابراہیمی سے اپنا تعلق رکھتے ہو اسے یکسر فراموش کرچکے ہو۔ اس لیے تم اگر عاقبت میں اپنے لیے عافیت چاہتے ہو تو مجھ پر ایمان لائو اور میری اطاعت کرو، ورنہ تمہیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ تو اہل مکہ جگہ جگہ ان باتوں پر تبصرہ کرتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جسے ہم جانتے بوجھتے ہیں اور اس میں اور ہم میں بظاہر کوئی فرق نہیں، اس کے پاس اللہ تعالیٰ آتا ہے یا وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنے احکام اس کے حوالے کرتا ہے اور اپنی کتاب اس پر نازل کرتا ہے، یہ تو کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا، ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا۔ اس کا تو ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ یہ محض بنائی ہوئی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حوالہ محض ہمیں مرعوب کرنے کے لیے ہے۔ چناچہ ان ہی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی چہ میگوئیوں میں جس سلسلہ ٔ ہدایت کو ایک نرالی بات کہہ رہے ہو اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ جب بھی پروردگار نے کسی قوم کی ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے تو اس نے ہمیشہ یہی طریقہ اختیار کیا کہ ان ہی میں سے ایک صاحب کردار شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا اور پھر اس پر اپنا کلام اتارا اور اسے اس کی تبلیغ و دعوت کا مکلف ٹھہرایا۔ تم جن رسولانِ گرامی کے نام جانتے ہو اور ان کی قوموں کے احوال سے بھی واقف ہو، ان سب پر وحی اسی طرح آتی رہی اور وحی کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کے احکامات انھیں ملتے رہے۔ وہ چونکہ عزیز ہے اس لیے جب بھی وہ ایسے کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہیں جانے یا کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اپنی حکمت سے اس کام کے لیے وحی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یعنی براہ راست اپنا حکم اپنے رسول کے دل پر اتارتا ہے یا اپنے فرشتے کو اپنا پیغام دے کر اس کے پاس بھیجتا ہے۔ اور وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کے ہر کام کی پشت پر حکمت کارفرما ہوتی ہے۔
Top