بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Al-Qurtubi - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰم۔
حم، عسق، عبدالمئو من نے کہا : میں نے حسین بن فضل سے پوچھا حم کو عسق کو سے کیوں الگ کیا گیا ہے جبکہ کھیعص، المر اور المص کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ فرمایا : کیونکہ حم عسق سورتوں کے درمیان ہے جن میں سے پہلی حم ہے تو یہ ما قبل اور بعد کے نظائر پر جاری ہوئی گویا حم مبتدا ہے اور عسق خبر ہے اور اس کی اخوات جن کو اکٹھے لکھا گیا ہے وہ ایک آیات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حروف معجمہ سب کے سب ایک معنی میں ہیں وجہ اس کی منصل لکھا گیا ہے کیونکہ کلام یہ کی گئی ہے حم سے مراد ہے مم ماھو کائن۔ جو ہو کر رہنے والا ہے اس کا قصد کرلیا گیا ہے انہوں نے فرق کیا ہے جس میں فعل مقدر ہوتا ہے یا فعل مقدر نہیں ہوتا پھر اگر اسے الگ الگ کردیا جاتا اور اسے متصل لکھا جاتا تو بھی جائز تھا۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس کی قراءت میں حم سق ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت علی ؓ ان کے ذریعے فتنوں کو پہنچاتا کرتے تھے۔ ارطاۃ بن منذر نے کہا : ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللی عنہ سے عرض کی جبکہ ان کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان موجود تھے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فرمان حم عسق کی تفسیر کے بارے میں بتائیے، تو آپ نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ اس نے تین دفعہ اپنے سوال کو دہر دیاتو پھر بھی حضرت ابن عباس ؓ نے اس اعراض کیا، حضرت حذیفہ بن یمان نے کہا : میں تجھے اس کے بارے میں آگاہ کرتا ہوں میں خوب جانتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر بیان کرنے سے کیوں اجتناب کیا ! یہ آیت اہل بیت کے ایک فرد کے بارے میں نازل ہوئی جسے عبد الالہ اور عبداللہ کہا جائے گا وہ مشرق کے دریائوں میں سے ایک دریا پر فروکش ہوگا اس پر دو شہر بسائے گا دونوں کو الگ الگ کردے گا۔ جب اللہ تعالیٰ ان کے مالک کے زوال اور حکومت کو ختم ہونے کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ رات کے وقت ایک آگ بھیجے گا تو وہ شہری صبح کے وقت تاریک سیاہ ہوجائے گا وہ سب جل جائے گا گویا وہ اس جگہ شہر تھا ہی نہیں۔ اس کی مالکہ صبح کے وقت متعجب ہوگی یہ سب کچھ کیسے الٹ ہوگیا وہ دن ابھی بھی روشن ہی ہوگا یہاں تک کہ اس میں ہر جابر سر کش جمع ہوجائے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اور انہیں سب کو دھنسا دے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے حم عسق یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے ایک حق ہے اور فتنہ و قضا جس کس قصد کرلیا گیا ہے۔ حم۔ ع۔ عد لا منہ اس کی جانب سے عدل۔ س، سیکون عنقریب ہوگا۔ ق، واقع ان دو شہروں میں واقع ہوگا۔ اس تفسیر کی مثل وہ روایت ہے جو جریر بن عبد اللہ بجلی نے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : دجلہ اور دجیل، قطر بل اور صراہ کے درمیان ایک شہر آباد کیا جائے گا جس میں زمین کے جابر حکمران جمع ہوں گے وہ زمین جس میں خزانے جمع کیے جائیں گے وہ اپنے مکینوں کے ساتھ زمین میں دھنس جائیں گے وہ زمین میں اس عمدہ کیل سے جلدی جائیں گے جو نرم زمین میں جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے عین کے بغیر حم سق پڑھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے مصحف میں یہ اسی طرح ہے ؛ یہ طبری نے بیان کیا ہے۔ نافع نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے ؛ حا اسکے حلم سے، میم اس کی مجد سے، عین اس کے علم سے، سین اس سنا سے اور قاف اس کی قدرت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم اٹھائی ہے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم، اپنی مجد، اپنی علو، اپنی سنا اور اپنی قدرت کی قسم اٹھائی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا جو خلوص دل سے لا الہ الا اللہ کی پناہ چاہتا ہے۔ جعفر بن محمد اور سعیدبن جبیر نے کہا : حاء رحمن سے، میم مجید سے، عین علیم سے، سین قدوس سے اور قاف قاصر سے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورتوں کے فواتح ہیں۔ عبداللہ بن بریدہ نے کہا : یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو دنیا کو محیط ہے۔ قشیری نے ذکر کیا جبکہ الفاظ ثعلبی کے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے چہرے پر پریشانی پہچانی جاسکتی تھی۔ آپ سے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ کس چیز نے آپ کو غمگین کیا ؟ فرمایا : مجھے ان امتحانات کے بارے میں بتایا گیا ہے جو میری امت میں واقع ہوں گے یعنی زمین میں دھنسا، پتھروں کی بارش کرنا، آگ جو انہیں سمندر میں پھینک دے گی، پے درپے آیات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول اور دجال کا نکلنا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ کی شان کے متعلق ہے حاء سے مراد آپ کا حوض جس پر ہر کوئی وارد ہوگا، میم سے مراد آپ کی وسیع حکومت، عین سے مراد موجود عزت، سین سے مراد وہ بلندی جس کی گواہی دی جائے گی، قاف سے مراد مقام محمود میں آپ کا کھڑا ہونا اور کرامت و بزرگی کے مقام پر اپنے مالک و مبعود کے قریب ہونا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی صاحب کتاب نبی نہیں مگر اس کی طرف وحی کی گئی حم عسق۔ اسی وجہ سے فرمایا : یوحی الیک والی الذین من قبلک۔ مہدوی نے کہا : حدیث میں آیا ہے کہ حم عسق کا معنی ہے متقد میں انبیاء کی طرف وحی کی گئی۔ ابن محصین، ابن کثیر اور مجاہد نے پڑھا یو حی۔ کہ یہ فعل مجبول ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے جارمجرور محل رفع میں ہے کیونکہ یہ فاعل مضمر ہو یعنی آپ کی طرف قرآن وحی کیا جاتا ہے جسے یہ سورت اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے تو لفظ فعل مضمر کے ساتھ مرفوع ہوگا کلام یہ ہوئی : اللہ تعالیٰ تیری طرف وحی کرتا ہے جس طرح ابن عامر اور ابوبکر کر قراءت ہے یسبح لہ فیھا بالغدو والآ صال رجال یعنی لوگ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں َ سیبو یہ نے یہ شعر پڑھا : لیبک یزید ضارع بخسومۃ واء شعت ممن طو ختہ الطوائح کہا : لیبک یزید۔ پھر اس کی وضاحت کی من ینبغی ان یبکیہ۔ معنی ہے اسے ضارع رلاتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہوا اور خبر محذوف ہو گو یا فرمایا : اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے یا کلام مبتدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے ہے الموحی اللہ یا یہ مبتدا ہے اور خبر محذوف ہو گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے یا کلام مبتدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے ہے الموحی اللہ یا بہ مبتدا ہے اور خبر العزیز الحکیم ہے باقی قراء نے یوحی الیک حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اسم اللہ کو غافل ہونے کی حیثیت سے رفع دیالہ ما فی السموت و ما فی الارض وھو العلی العظیم۔ اس کی وضاحت کئی مقامات پر گذر چکی ہے۔ آیت نمبر 5 عام قراءت تاء کے ساتھ ہے۔ نافع، ابن و ثاب اور کسائی نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یتفظرن۔ نافع اور دوسرے قراء نے یاء، تاء اور طاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے یہ عام قراءت ہے۔ ابو عمرو، ابو بکر، مفضل، ابو عبید نے ینفطرن انفطار کے اساتھ پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذ السماء انفطرت۔ (الا انفطار) سورة مریم میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تکاد السموت یتفطرن یعنی آسمانوں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال سے اپنے اوپر لپٹ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فو قھن سے مراد مینوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے لپٹ جاتے اگر وہ ان چیزوں سے ہوتے جو عقل رکھتے ہیں۔
Top