بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حم
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ چاروں بنیادی اصولوں کا ذکر ہے تا ہم مختلف سورتوں میں مختلف مضامین پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔ مثلاً گزشتہ سورة حم السجدۃ میں توحید کے عقلی دلائل پر زیادہ زور دیا گیا تھا اور اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا زیادہ ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ دعوت الیٰ القرآن بھی اس سورة کا موضوع ہے ، پھر توحید باری تعالیٰ کا رد ، اللہ کی صفات پر ایمان اور اس کی نعمتوں اور حکمتوں کا تذکرہ ہے۔ کفار و مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے اہل ایمان کو سخت ممانعت کا سامنا تھا ، لہٰذا اس سورة میں حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کے لیے تسلی کا مضمون بھی آ گیا ہے۔ دین کے بنیادی اصولوں میں معاد اور جزائے عمل کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اسی سورة مبارکہ میں دنیوی زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے دنیا کے اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا مگر ساتھ تنبیہ کی گئی ہے کہ انسان دنیا کی رونق میں اس قدر منہمک نہ ہوجائے کہ آخرت کو فراموش ہی کر دے بلکہ آخرت کی فکر کی بھی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ نے اہل ایمان اور ان کے نیک اعمال کا ذکر کیا ہے اور اچھی جزاء کی خوشخبری سنائی ہے اور دوسری طرف کفار و مشرکین کے قبیح اعمال اور ان کے برے انجام کا ذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سورة میں اللہ نے اجتماعیت ، شورانیت اور خلافت کے اصول بھی بیان کیے ہیں۔ حروف مقطعات باقی حوامیم سورتوں کی طرح اس سورة کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے اور اس کی پہلی دو آیات انہی حروف پر مشتمل ہے۔ حم عسق ان حروف سے متعلق مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض اسے سورة کا نام بتاتے ہیں یعنی اس سورة کا نام الشوریٰ کے علاوہ حم عسق بھی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ حروف کسی مفہوم پر دلالت کرتے ہیں یہاں پر ان حروف کا مفہوم یہ ہے کہ یہ سورة حکمت اور معارف پر مشتمل ہے چناچہ یہ مفسرین فرماتے ہیں ح سے حکمت اورء سے معارف مراد ہے ۔ اس طرح س سے سورة ق سے قرآن اور ع سے علم مراد ہے۔ جو شخص حکمت اور معارف کی ان باتوں کو پیش نظر رکھے گا ، اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبولیت حاصل ہوگی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ تمام حروف مقطعات میں اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں پر ح سے مراد حلم کہ بردباری اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ م سے مرا د مجد ہے اور مجید اللہ کی صفت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی بزردگی پر دلالت کرتی ہے اسی طرح ع کا اشارہ علم کی طرف س کا سنا یعنی خدا کی بلندی کی طرف اور ق سے قدرت خداوندی مراد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دراصل اللہ نے اپنے حلم ، مجد ، علم ، بلندی اور قدرت کی قسم اٹھا کر اگلی بات کی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ ح سے وحی الٰہی سے مراد ہے اور م سے حضرت محمد ﷺ یا مقام محمود جس پر آپ قیامت کے دن فائز ہوں گے۔ بعض نے ح سے حوض کوثر اور م سے ملک مراد ہے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نزل بلہ الروح الامین علی قبلک لتکون من المنذرین ( الشعرائ : 193 ، 194) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا علم حضور ﷺ کے قلب مبارک پر بذرعہ نازل فرمایا تا کہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کو امام ثعلبی (رح) نے حضرت علی ؓ کے حوالے سے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ان حروف سے قرب قیامت میں پیش آنے والے فتنوں کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ ح سے حرق یعنی جلانا ، م سے مہلکہ یعنی ہلاکت ع سے عذاب ، س سے مسخ اور ق سے قذف کے اشارات ملتے ہیں ۔ گویا قرب قیامت میں آتش زدگی ، ہلاکت ، عذاب کا نزول ، زمین میں دھنس جانا ، جیسے اکثر واقعات پیش آئیں گے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے قلعی معانی تو کوئی نہیں بیان کرسکتا کیونکہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وضاحت کی ہے اور نہ حضور ﷺ سے تشریح منقول ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے جو بات مجھے کشف یا ذوقی طور پر سمجھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حروف مفصل مضامین کے مخففات ہوتے ہیں ۔ جس طرح کوئی شخص بی اے ایم اے یا پی ایچ ڈی سے جان لیتا ہے کہ یہ حروف کسی شخص کے علم و فن کی طرف دلالت کرتے ہیں یا جس طرح کوئی شخص قاضی ، مفتی یا سلطان وغیرہ الفاظ سے وسیع حقیقت اخذ کرلیتا ہے ، اسی طرح حروف مقطعات کے نیچے بھی سورة کا مکمل موضوع پایا جاتا ہے جو ان حروف سے ظاہر ہوتا ہے ۔ گویا یہ حروف سورة کے تفصیلی مضامین کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ عالم بالا سے بعض حقائق اس متدنس جہان میں لوگوں کے باطل عقائد و اعمال سے ہیں ۔ باطل پرست لوگوں سے بحث مباحثہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں باطل عقائد و اعمال کا رد ہونا ہے تو شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف سے اسی بات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ تا ہم عام مفسرین اور خصوصاً امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ زیادہ سلامتی والی بات یہ ہے کہ ان حروف سے متعقل ہی عقیدہ رکھا 1 ؎ جائے۔ اللہ اعلم بمراد بذلک اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان سے کیا مراد ہے اور ان حروف سے جو بھی اللہ کی مراد سے ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسان کو ہر چیز کا علم حاصل ہونا تو ممکن نہیں لہٰذا بعض چیزوں پر ایمان بالغیب ہی لانا پڑتا ہے ۔ تو انحروف سے متعلق بھی ایمان بالغیب ہی ہونا چاہئے کہ ان کا جو بھی اللہ کے نزدیک مطلب ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ پانچ حروف مقطعات دو آیتوں میں سمو دیے گئے ہیں حضر ت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ قرآن کریم کے ہر ہر حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ، لہٰذا جو شخص ان پانچ حروف کی تلاوت کرتا ہے ، اگرچہ وہ ان کا مفہوم نہیں سمجھتا مگر حضور کے فرمان کے مطابق وہ کم از کم پچاس نیکیوں کا مستحق تو ضرور بن جاتا ہے ان حروف کا بہر حال یہ فائدہ تو ضرور ہے۔ وحی کا نزول اس سورة کا آغاز بھی اللہ نے وحی الٰہی کے بیان سے کیا ہے اور پھر سورة کے آخری حصے میں زیادہ تر یہی مضمون ہے ۔ وحی کا لغوی معنی وہ مخفی اشارہ ہے جو تیزی کے ساتھ واقع ہو چونکہ اللہ کا فرشتہ وحی کا القا نہایت تیزی کے ساتھ مخفی طور پر نبی کے قلب پر کرتا ہے ۔ اس لیے اس کو وحی کہا جاتا ہے ۔ نزول وحی کی کیفیت کو صاحب وحی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جان سکتا ۔ وحی الٰہی بڑی مشکل اور بھاری چیز ہوتی ہے ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ نزول وحی کے وقت ایک قسم کا اصلاح ہوتا ہے یعنی صاحب وحی کی ذات مادیت ، بشریت سے نکل کر ملکیت کی طرف 1 ؎۔ جلالین ص 4 چلی جاتی ہے ۔ اور اس کا ربط اس طرف ہوجاتا ہے پھر فرشتہ عالم بالا سے کلام الٰہی لا کر نبی کے قلب میں ڈال دیتا ہے اور اسی طرح وحی کا نزول عمل میں آتا ہے۔ ارشاد ہتا ہے کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ کی طرف وحی بھیجتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک آنے والے تمام انبیاء کی طرف اللہ نے وحی نازل فرمائی ، کسی پر کم اور کسی پر زیادہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض انبیاء (علیہم السلام) پر اللہ نے ان کی پوری زندگی میں صرف چار دفعہ وحی نازل فرمائی ، بعض پر پچاس مرتبہ اور بعض پر چار سو مرتبہ ، اللہ نے حضور خاتم النبین ﷺ پر چالس ہزار دفعہ وحی نازل فرمائی۔ عظمت خداوندی ارشاد ہوتا ہے کہ وحی کو نازل کرنے والی ذات خداوندی ہے اللہ العزیز الحکیم جو کمال قدرت کا مالک اور حکمتوں والا ہے وہ زبردست ہے کہ تمام قوتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں اور وہ غاب ہے اور حکیم بایں معنی کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔ فرمایا لہ ما فی السموات وما فی الارض اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور کچھ سے زمین میں ۔ ہر چیز کا خالق بھی وہ ہے اور مالک بھی وہی ہے ، تمام بندے بھی اس کے ہیں اور سب پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وھو العلی العظیم وہ باعتبار ذات وراء الوراء یعنی بہت بلند ہے حتیٰ کہ اس کی ذات تک کسی مخلوق کی رسائی نہیں اور اپنی صفات کے اعتبار سے ہ بڑا عظمت والا ہے۔ تحکاد السموات یتفطو ن من فوقھن قریب ہے کہ اللہ کے جلال و عظمت کی وجہ سے اوپر سے آسمان پھٹ رہا قرآن پاک میں اس قسم کے الفاظ اس موقع پر استعمال کیے ہیں ۔ جہاں اس کی ناراضگی جوش میں ہوتی ہے ۔ مثلاً سورة مریم میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے یہ تو نہایت بری بات ہے تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ھذا ( آیت : 90) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریز ہ ریزہ ہوجائیں اس بات سے کہ وہ کہتے ہیں خدائے بیٹا بنا لیا ہے ، ایسی باتوں سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے مگر چونکہ وہ غفور اور رحیم بھی ہے اس لیے مہلت دیتا رہتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کا مقررہ وقت پر ہی محاسبہ کریگا ۔ فرشتوں کی دعائیں فرمایا والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم اور اللہ کے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں اپنے پروردگار کی اس کی تعریف کے ساتھ ، فرشتوں کی تسبیح وتحمید کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ آسمان پر ایک بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہیں جہاں اللہ کا کوئی فرشتہ رکوع و سجود اور اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف نہ ہو ۔ فرشتے ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں ویستغفرون لمن فی الارض اور اہل زمین کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں ۔ پچھلی سورة المومن میں موجود ہے کہ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (آیت : 7) حاملین عرش اور اس کے ارد گرد والے فرشتے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عظمتوں کو معاف کر دے ۔ سورة المومن میں صرف اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائوں کا ذکر ہے ۔ جب کہ آیت زیر درس میں زمین پر بسنے والے ہر شخص کے لیے بخشش عامہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ فرشتوں کی ان دعائوں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کی جلد گرفت نہیں کرتا اور انہیں مہلت دیتا رہتا ہے شاید کہ باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو یہ ہے کہ اگر وہ فوری گرفت کرتا تو زمین پرچلنے پھرنے والی کوئی چیز نظر نہ آتی ۔ فرمایا الا ان اللہ ھو الغفور رحیم آگاہ رہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے جو فرشتوں کی دعائوں کو قبول کر کے اپنے بندوں کی خطائیں معاف کرتا رہتا ہے اور کافروں اور نافرمانوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ غیر اللہ سے کار سازی کی امید ارشاد ہوتا ہے والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے۔ اللہ حفیظ علیھم اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے ، وہی ان کے رازوں کو جانتا ہے اور وہی ان سے انتقام لینے والا ہے ۔ فرمایا وما انت علیھم بوکیل اے پیغمبر ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ آپ کا کام تو پیغام الٰہی کو پہنچا دینا ہے ، بات سمجھا دینا اور اس کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کرنا ہے ۔ ان کے اعمال کی حفاظت کرنا اور پھر برے اعمال پر گفت کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔ اس دنیا میں اللہ ان کے کاموں سے واقف ہے وہ قیامت والے دن بھی ان کے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔ پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئیگی اور ٹھیک ٹھیک فیصلے ہونگے ۔ آپ اپنا کام کرتے جائیں اور ان کا معاملہ اللہ کو سونپ دیں ۔ وقت آنے پر وہ خود ہی ان سے باز پرس کرلے گا ۔ انہوں نے غیر اللہ کو کار ساز بنا کر اللہ کی غیرت کو چیلنج کردیا ہے اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹ لے گا ۔
Top