Tafseer-e-Baghwi - Al-Ahzaab : 14
قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ
قَالُوْا : وہ بولے يٰهُوْدُ : اے ہود مَا جِئْتَنَا : تو نہیں آیا ہمارے پا بِبَيِّنَةٍ : کوئی دلیل (سند) لے کر وَّمَا : اور نہیں نَحْنُ : ہم بِتَارِكِيْٓ : چھوڑنے والے اٰلِهَتِنَا : اپنے معبود عَنْ قَوْلِكَ : تیرے کہنے سے وَمَا : اور نہیں نَحْنُ : ہم لَكَ : تیرے لیے (تجھ پر) بِمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے
اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں
تفسیر 14، ولودخلت علیھم ، اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف میں سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرورفتنہ کے مرتکب ہوجائیں ۔ ، من اقطارھا، مدینہ کے جوانب اور آس پاس سے اقطار ھا جمع ہے قطر کی۔ ، ثم سئلو ا الفتۃ ، فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ، لاتوھا ، تو یہ ضرور کسی فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے۔ قراء اہل حجاز نے اس کی قرأت ، لاتوھا، مقصود پڑھی ہے۔ ، وما تلبثوابھا، جب تک ان کو فتنہ سے روک دیاجائے۔ ، الا یسیرا، وہ شرک کی اجابت کی طرف جلدی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دل کو اچھی لگتی ہے۔ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حسن اور فراء کا قول ہے مدینہ میں صرف تھوڑی مدت ٹھہریں پھر انکو جلاوطن کردیاجائے یا ہلاک کردیا جائے۔
Top