Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
39، والذین اذا صابھم البغی، ظلم اور سرکشی ، ھم ینتصرون، وہ اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں لیکن حد سے نہیں بڑھتے ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی دوقسمیں بنائی ہیں ایک قسم اپنے ظالم کو معاف کرتی ہے تو ان کے ذکر سے ابتداء کی اور فرمایا۔ ، واذا ماغضبو اھم یغفرون، اور ایک قسم اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں اور یہ وہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے ۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں کہ وہ لوگ ذلت کو ناپسند کرتے ہیں۔ پس جب قدرت پاتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤ من ہیں جن کو کفارنے مکہ سے نکال دیا۔ اور ان پر سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین میں قدرت دی حتی کہ انہوں نے اپنے پر ظلم کرنے والوں سے انتقام لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انتقام کو ذکر کیا اور فرمایا :
Top