Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
(42:40) وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا : سیئۃ برائی ، برا کام ۔ گناہ، اس کی جمع سیئات ہے۔ س و ء مادہ۔ واؤ عاطفہ ہے جزاء سیئۃ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مبتداء مثلہا مضاف مضاف الیہ مل کر سیئۃ کی صفت موصوف و صفت مل کر خبر اپنے مبتداء کی ۔ (مثلہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع سیئۃ ہے) اور برائی کا بدلہ برائی ہے (اسی طرح کی، اسی قدر) مقاتل نے کہا ہے کہ :۔ جزاء سیئۃ سے مراد قتل اور زخمی کرنے کا بدلہ۔ مجاہد اور سدی کے نزدیک گالی گلوچ یا برے الفاظ کا بدلہ مراد ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرما دیا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللّٰہ۔ لیکن جو شخص معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔ عفا : ماضی واحد مذکر غائب عفو (باب نصر) مصدر اس نے معاف کیا۔ اصلح : ماضی واحد مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر اس نے صلح کرلی وہ سنور گیا۔ وہ نیک ہوگیا۔ اس نے اصلاح کی۔ اس نے صلح کرا دی۔ فمن عفا واصلح من شرطیہ جملہ شرط۔ فاجرہ علی اللّٰہ جواب شرط۔ من موصولہ متضمن لمعنی الشرط بھی ہوسکتا ہے۔
Top