Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کی پاداش اسی برائی کی مثل ہے پھر جو شخص درگزر کرے اور باہم صلح و صفائی کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے بیشک اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(40) اوربرائی کی پاداش اسی برائی کی مثل ہے پھر جو شخص درگزر کرے اور باہم صلح و صفائی کرلے اور قفیے کو یہاں سے انتقام اور بدلے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا کہ برائی کرنے والوں کو اتنی ہی برائی پہنچائو جتنی اس نے برائی کی ہے انتقام میں زیادتی نہ ہونے پائے اور سیئہ کے مقابلے میں انتقامی کاروائی کی گئی اس کو بھی سیئہ فرمایا حالانکہ پہلی سیئہ تو حقیقت میں سیئہ ہے لیکن جواباً جو عمل ہو وہ سیئہ نہیں بلکہ وہ تو آئندہ کی روک تھام کی غرض سے کیا گیا ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہو جیسا کہ علماء نے کہا ہے کہ چونکہ یہ سئیہ کا بدلا ہے اس لئے اس کو سیئہ فرمایا۔ یا اس لئے کہ یہ دوسرا فعل پہلے فعل کے مشابہ اور اس کی مثل ہے اس لئے اس کو سیئہ فرمایا یا اس لئے کہ بہرحال اس سے بددلی ہوتی ہے اگر اس سے پہلے سیئہ نہ ہوچکی ہوتی تو یقینی سیئہ تھی یا شاید اس لئے جوابی کاروائی کو سیئہ فرمایا کہ ہر حال میں معاف کردینا بہتر اور مستحب ہے۔ مقاتل نے کہا مراد اس سے قصاص لینا ہے زخم پہنچانے میں اور خون کرنے میں مجاہد اور رسدی کا قول ہے کہ اس سے مراد قبیح کا جواب قبیح سے دینا ہے یعنی جو تجھ کو برا کہے تو بھی اس کو برا کہہ سکتا ہے۔ ابن عینیہ کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے اس کا مطلب دریافت کیا لیکن میں ان کے جواب سے مطمئن نہ ہوا تو میں نے ہشام بن حجرہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ زخمی کرنے والوں کے حق میں ہے اگر کوئی تجھ کو زخم پہنچائے تو تو بھی اس کو زخم پہنچا سکتا ہے اور یہ مراد نہیں کہ کوئی تجھ کو براک ہے تو تو بھی اس کو براک ہے۔ خلاصہ : یہ کہ اگر وہ فعل فی نفسہ شرعاً حرام ہے تو اس کے جواب میں حرام کرنے کی اجازت ہیں آگے معافی کا ذکر فرمایا کہ باوجود اجازت انتقام کے بھی کوئی شخص معاف کردے اور آپس میں سنوار کرے اور اصلاح کرے تو ایسے شخص کا اجروثواب اللہ تعالیٰ پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ابن زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں ایک وہ جو بالکل معاف کریدتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں دوسرے وہ جو انتقام لیتے ہیں اور برابر سرابر بدلا لیا کرتے ہیں پھر بھی معافی اور باہمی اصلاح کو ترجیح ہے۔
Top