Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ ہے برائی ویسی ہی4 پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمہ بیشک اس کو پسند نہیں آتے گناہگار5
4  بدلہ کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتا نہیں محض سورة ً برائی ہوتی ہے۔ " سیئۃٍ " کا اطلاق اس پر مشاکلۃً کیا گیا۔ 5  یعنی ظلم اور زیادتی تو اللہ کے ہاں کسی حالت میں پسند نہیں۔ بہترین خصلت یہ ہے کہ آدمی جتنا بدلہ لے سکتا ہے اس سے بھی درگزر کرے۔ بشرطیکہ درگزر کرنے میں بات سنورتی ہو۔
Top