Dure-Mansoor - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ برائی ہے اسی جیسی، سو جو شخص معاف کردے اور صلح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا
1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ (کہ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے) دنیا میں جو لوگ ایکدوسرے سے تکلیف اٹھاتے ہیں اور (بدلے میں) قصاص لیا جاتا ہے۔ 2:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں جو کچھ کہتے ہیں تو اس کے گناہ ابتداء کرنے والے پر ہیں یہاں تک یہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔ پھر یہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ تلاوت کی۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب تجھ کو گالی دی جاتی ہے تو بھی اس کو اسی طرح کی گالی دیدے مگر اس سے تجاوز نہ کر۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی نجیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ کہ اگر آدمی کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرے تو جواب میں دوسرا بھی کہہ سکتا ہے۔ اللہ اس کو رسوا کرے۔ عفو و درگزر سے کام لینا : 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمائیں گے کہ وہ آواز لگائے کہ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ پر ہے تو نہیں کھڑا ہوگا مگر وہ شخص جس نے دنیا میں معاف کردیا تھا اسی کو فرمایا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ (لیکن جو شخص معاف کردے اور صلح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے) 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے تو بہت ساری گردنیں کھڑی ہوں گی ان سے کہا جائے گا تمہارا اللہ کے ذمہ کیا اجر ہے ؟ وہ کہیں گے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظالموں کو معاف کیا تھا اور یہی قول ہے اللہ تعالیٰ کا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ ان سے کہا جائے گا اللہ کے حکم سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا جب بندے حساب کیلئے کھڑے ہوں گے تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا کہ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کو چاہئے کہ جنت میں داخل ہوجائے پھر دوسری مرتبہ آواز دے گا۔ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ لوگ کہیں گے کون ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ فرشتہ کہے گا جو لوگوں کو معاف کردیتے تھے تو اتنے اتنے ہزار لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ 8:۔ البیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کا اجر اللہ کے ؔ ذمہ ہے اسکو چاہئے کہ جنت میں داخل ہوجائے یہ اعلان دو دفعہ ہوگا۔ تو وہ آدمی کھڑا ہوجائے گا جس نے اپنے بھائی کو معاف کردیا اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ (جو شخص معاف کردے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے) 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے آواز لگانے والا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان کرے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ؟ تو وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جنہوں نے دنیا میں معاف کیا تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم لوگوں نے میرے لئے معاف کیا تھا تمہارا ثواب جنت ہے۔ 10:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن المنکدر (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین پر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا خبردار ! جس کا حق اللہ پر ہے اس کو چاہئے کہ کھڑا ہوجائے تو ہو شخص کھڑا ہوجائے گا جس نے معاف کیا اور اصلاح کی کوشش کی۔ 11:۔ ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آواز لگانے والاقیامت کے دن آواز دے گا آج کے دن کوئی کھڑا نہ ہوگا مگر جس کا اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی احسان ہو تو مخلوق کہے گی آپ کی ذات پاک ہے بلکہ احسان تو آپ کا ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیوں نہیں۔ جس شخص نے دنیا میں قدرت ہوتے ہوئے معاف کیا (اس کا اجر میرے پاس ہے) 12:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں سے کون زیادہ عزت والا ہے، فرمایا وہ شخص جو قدرت ہوئے معاف کردے۔ 13:۔ احمد و ابوداؤد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابوبکر ؓ کو گالی دی اور نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے آپ نے تعجب فرمایا اور مسکرانے لگے جب اس آدمی نے زیادہ باتیں کیں ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا (اس پر) نبی کریم ﷺ غصہ ہو کر کھڑے ہوگئے، ابوبکر پیچھے سے جا کر ملے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ مجھے برا کہہ رہا تھا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو کر کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا کہ تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تو نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو شیطان آگیا میں ہرگز شیطان کے ساتھ بیٹھنے والا نہیں پھر فرمایا اے ابوبکر تو نے اپنا حق پالیا ہے کہ جس کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خطاچشم پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور جس آدمی نے عطیہ کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعے وہ صلہ رحمی کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ دیتا ہے۔ اور جس آدمی نے (لوگوں سے) سوال کرنے کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعہ مال کی کثرت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی تنگی میں اور اضافہ کردیتے ہیں۔
Top