Al-Qurtubi - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
مسئلہ نمبر 2 ۔ وجزؤ ا سیئۃ سیئۃ مثلھا علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دو قسمیں بنائی ہیں ایک قسم ہے جو ظالموں کو معاف کردیتی ہے اللہ تعایلٰ نے اس ارشاد کے ساتھ ان کے ذکر کا آغاز کیا واذا ماغضبوا ھم یغفرون۔ ایک قسم ایسی ہے جو ظالم سے انتقام لیتے ہیں پھر اس ارشاد وجز ؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا کے ساتھ انتقام کی حد بیان کی۔ جو آدمی ان پر ظلم کرتا ہے وہ ظالم سے انتقام لیتے ہیں مگر کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔ مقاتل اور ہشام بن تجیر نے کہا : یہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جس کو زخمی کیا گیا ہو زخمی کرے والے سے قصاص لے کر انتقام لیا جائے گا (3) ‘ جس نے سب و شتم کی ہے اس سے اتقام نہیں لیا جائے گا یہ امام شافعی ‘ امام ابوحنیفہ اور سفیان کا مذہب ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : ابن شبر مہ کہا کرتے تھے مکہ مکرمہ میں ہشام کی مثل کوئی نہیں۔ امام شافعی نے اس آی تمہیں یہ تاویل کی ہے کہ انسان کو حق حاصل ہے کہ خائن کے مال سے اتنا مال لے لے جتنی خائن نے اس کے مال میں خیانت کی تھی جبک اسے بتانے کی ضرورت نہیں اس بارے میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد سے استدلال کیا جو حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کی بیوی ہندہ سے فرمایا تھا : ” تو اس کے مال سے اتنا لے لے جو تیرے اور تیرے بچے کے لیے کافی ہو “ (4) ۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت کے بغیر اسے مال لینے کی اجازت دی۔ اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گذرچ کی ہے۔ ابن ابی نجیح نے فرمایا : یہ زخم لگانے میں مقابلہ پر محمول ہے (5) جب کہے : اللہ تعالیٰ اسے ذلیل ور سوا کرے یا اس پر لعنت کرے جب وہ اسکی مثل کہے تو وہ تہمت کا مقابلہ تہمت سے اور جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ سے نہ کرے۔ سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی مدح کی جو ظلم کرنے والے سے اس قدر بدلہ لیتا ہے جبکہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرتا اور جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے اتنا ہی ظلم کرتا ہے جس طرح عرب کیا کرتے تھے جزا کو سیئہ کہا گیا ہے کیونکہ یہ بدلہ اس عمل (ظلم) کے مقابلہ میں ہے پہلے نے مال اور بدن میں زیادتی کی اور یہ قصاص اسی کی مثل برا ہے (1) یہ بحث سورة بقرۃ میں مفصل گذرچ کی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے قصاص کو ترک کیا اور اپنے اور ظالم کے درمیان معافی کے ساتھ مصالحت کی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر اجر دے گا۔ مقاتل نے کہا : عفو اعمال صالحہ میں سے ہے۔ سورة آل عمران میں اتنی بحث گذر چکی ہے جو اس میں کفایت کرجاتی ہے۔ الحمد اللہ۔ ابو نعیم حافظ نے حضرت علی بن حسین ؓ سے روایت نقل کی ہے : ” جب قیامت کا روز ہوگا تو ایک ندا کرنے وا الا ندا کرے گا : تم میں سے فضیلت والے کون ہیں ؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے انہیں کہا جائے گا : جنت کی طرف چلے جائو ‘ فرشتے انہیں ملیں گے وہ پوچھیں گے : کہاں جارہے ہو ؟ وہ کہیں گے : جنت کی طرف جارہے ہیں ‘ فرشتے پوچھیں گے : حساب سے بھی پہلے ؟ ہ جواب دیں گے : ہاں۔ فرشتے پوچھیں گے : تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے : فضیلت والے۔ فرشتے پوچھیں گے ؎ : تمہاری فضیلت کیا ہے ؟ وہ فرمائیں گے : جب ہمارے ساتھ جہالت کارویہ اپنا یا جاتا تو ہم حلم کا مظاہرہ کرتے اور جب ہم پر ظلم کیا جاتا ‘ تو ہم صبر کرتے جب ہم پر زیادتی کی جاتی تو ہم معاف کردیتے۔ فرشتے کہیں گے : جنت میں داخل ہو جائو عمل کرنے والوں کا اجر کتناہی اچھا ہے “ اور حدیث کا ذکر کیا۔ انہ لا یحب الظلمین۔ جو ظلم کا آغاز کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا (2) ؛ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو آدمی قصاص میں حد سے تجاوز کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا ؛ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے (3) ۔
Top