Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
تفسیر 40۔ ، وجزاء سیئۃ مثلھا، بدلہ کو بھی سیئہ کا نام دیا گیا ہے۔ اگر چہ یہ سیئہ نہیں ہے اس لیے کہ ان کی صورت ایک جیسی ہے مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی زخموں اور خون میں قصاص۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بری بات کا جواب دینا مراد ہے۔ جب کوئی تجھے کہے رسواکرے تو تو بھی کہہ اللہ تجھے رسواکرے اور جب تجھے برا بھلاک ہے تو تو بھی اسی کی مثل برابھلا کہہ لیکن حد سے نہ بڑھ۔ سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری (رح) سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، کی تفسیر کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی تجھے برابھلا کہے تو تو اس کو برابھلا کہہ یا اگر تیرے ساتھ کچھ کیا جائے تو تو بھی ویسا کر۔ پس میں نے ان کے پاس کچھ نہیں پایا تو میں نے ہشام بن حجیرہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب کوئی شخص زخم لگائے تو اس سے بدلہ لیاجائے گا اور آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اگر تجھے برابھلا کہے تو تو اس کو برابھلاکہہ۔ پھر معافی کو ذکر کیا اور فرمایا، فمن عفا، اس کو جس نے اس پر ظلم کیا۔ ، واصلح، معافی کے ساتھ اپنے اور ظالم کے درمیان ، فاجرہ علی اللہ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز لگانے والا آوازلگائے گا کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجرہوتو وہ کھڑا ہوجائے تو صرف وہی شخص کھڑا ہوگا جس نے معاف کیا ہوگا۔ پھر یہ آیت پڑھی، انہ لایحب الظالمین، ابن عبا س ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں۔
Top