Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے بیشک وہ پسند نہیں کرتا ظالموں کو
83 برائی کا بدلہ برابر سرابر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے "۔ برائی کا بدلہ تو برائی نہیں ہوتا بلکہ وہ قصاص ہوتا ہے جس کی شریعت میں اجازت ہے۔ مگر " مشاکلہ " یعنی دونوں کے باہم مشابہ اور ہمشکل ہونے کی بنا پر برائی کے جواب کو بھی برائی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے اس طرف اشارہ بھی نکلتا ہے کہ بدلہ لینے سے معاف کردینا بہرحال بہتر ہے الا یہ کہ اس سے کوئی اور فساد پیدا ہوتا ہو۔ بہرکیف اہل جنت کی صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ برائی کا بدلہ برابر سرابر لیتے ہیں۔ اس کی کوشش نہیں کرتے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں کہ یہ طریقہ ظلم و زیادتی کے زمرے میں آجاتا ہے جس سے وہ بہرحال بچتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 84 عفو و درگزر کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر جو کوئی معاف کر دے اور معاملہ کو اصلاح کی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا ظالموں کو "۔ جو زیادتی کرنے میں پہل کرتے ہیں یا بدلہ دینے میں حد سے بڑھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس بنا پر برائی کے بدلے میں کی جانے والی کارروائی کے بارے میں { مثلہا } کی تصریح فرما دی گئی کہ ایسے لوگ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیتے بلکہ اس معاملے میں وہ پورا توازن قائم رکھتے ہیں۔ اور جواب میں وہ اتنی ہی کارروائی کرتے ہیں جو برائی کے ہم وزن ہو۔ جس میں کسی پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ سو اس میں عفو و درگزر کی ترغیب ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Top