Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔
15 ۔” ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا “ نرم کہ اس کی نرمی کی وجہ سے اس پر چلنا مشکل نہ ہو۔ ” فامشوا فی ماکبھا “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کے پہاڑوں میں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کے ٹیلوں میں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کے راستے اور وادیوں میں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کے سبل میں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کے اطراف میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کے ارد گرد۔ فراء فرماتے ہیں اس کے جوانب میں اور اصل کلمہ میں جانب ہے اور اس سے ” منکب الرجل “ آدمی کا کندھا ” الریح النکبائ “ اور ” تنکب فلان “ کے جملے ہیں۔ ” وکلوا من رزقہ “ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین میں رزق پیدا کیا ہے۔ ” والیہ النشور “ یعنی اور اسی کی طرف تم اپنی قبروں سے اٹھائے جائو گے۔ (فستعلمون) وہ آخرت کے دن یا موت کے وقت جان لیں گے (کیف نذیر) میرا ڈرانا کیسا ہوگا جب وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ لیں گے۔
Top