Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے
28 ۔” قل “ اے محمد ! ﷺ مشرکین مکہ کو جو آپ (علیہ السلام) کی ہلاکت کی تمنا کرتے ہیں ” ارایتم ان اھلکنی اللہ ومن معی “ مومنین میں سے۔ ” اور حمنا “ پس ہم کو باقی رکھا ہماری مدتوں کے ختم ہونے تک۔ ” فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم “ کیونکہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے لامحالہ اور کہا گیا ہے اس کا معنی کیا تم دیکھتے ہو اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہلاک کردے۔ پھر مجھے عذاب دے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں یا ہم پر رحم کرے۔ پس ہماری مغفرت کردے۔ پس ہم اپنے ایمان کے باوجود خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کردے ۔ اس لئے کہ اس کا حکم ہم میں نافذ ہونے والا ہے۔ پس کافروں کو کون پناہ دے گا۔ پس کون تمہیں پناہ دے گا اور تمہیں اس کے عذاب سے روکے گا حالانکہ تم تو کافر ہو اور یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے۔
Top