Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
تو کہہ وہی رحمان ہے ہم نے اس کو مانا اور اسی پر بھروسہ کیا1 سو اب تم جان لو گے کون پڑا ہے صریح بہکائے میں2
1  یعنی جب ہمارا ایمان اس پر ہے تو ایمان کی بدولت نجات یقین ہے اور جب ہم صحیح معنی میں اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تو مقاصد میں کامیابی یقینی ہے۔ (وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ) 65 ۔ الطلاق :3) تم میں دونوں چیزیں نہیں، نہ ایمان، نہ توکل، پھر تو کیسے بےفکر ہو ؟ 2  یعنی ہم جیسا کہ تمہارا گمان ہے یا تم جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے۔
Top