Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
آپ ﷺ کہہ دیجئے وہی بڑا مہربان ہے ، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے پس تم جلد ہی جان لو گے کہ صریح گمراہی میں کون پڑا ہوا ہے
آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ ابھی فیصلہ ہوا چاہتا ہے بس تم دنیا کی زندگی کے دن پورے کرو 29 ؎ ان کی مذاق اڑائی جانے والی باتوں کو سن کر اور استہزاء کو برداشت کر کے نہایت تسلی کے ساتھ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ جو تم کہہ رہے ہو ہم نے سن لیا ہے اور تمہاری ان باتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارا اللہ رحمن ہے اور ہم اس پر سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ اسی پر ہے اسی پر رہے گا تم جو کہتے ہو ہم سن رہے ہیں اور جو کہو گے سنیں گے اور آپ جو کچھ کہیں گے یا کہنا چاہتے ہیں اس کو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ عنقریب یہ بات واضح ہوجائے گی اور اس کو سب جان لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے اور رحمن کا لفظ اس سورت میں اس جگہ چوتھی بار استعمال ہوا ہے اور اس کے بار بار ذکر کئے جانے میں رمز ہے اس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں۔ اس طرح زیر نظر آیت میں گویا دونوں جماعتوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے کہ ہم آپس میں الجھتے رہے تو اس کا آخر فائدہ ؟ جب ہم سب کو انجام کار لوٹ کر اسی طرف جانا ہے جس طرف سے ہم آئے ہیں تو ہماری طرف سے اس جھگڑے کا آخری فیصلہ یہ ہے ہم اور تم دونوں ہی اپنی اپنی راہ چلتے ہوئے اس وقت کا انتظار کریں اور جونہی وقت گزر گیا معلوم ہوجائے گا کہ فیل کون ہے اور پاس کون اور پھر ساری الجھن خود بخود ختم ہوجائے گی۔
Top