Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔
27 ۔” فلما رائوہ “ یعنی آخرت میں عذاب کو اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے قول پر اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں بدر میں عذاب کو۔ ” زلقۃ “ یعنی قریب اور یہ اسم اس کے ساتھ مصدر کو موصوف کیا جاتا ہے۔ اس میں مذکر اور مونث اور واحد ، تثنیہ اور جمع برابر ہیں۔ ” سیئت وجوہ الذین کفروا “ سیاہ ہوگئے ۔ ان پر غم چھا گیا۔ پس معنی یہ ہے کہ ان کے چہرے سیاہی کی وجہ سے انتہائی بدصورت ہوگئے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے ” ساء الشیء یسوء فھو سییئ “ جب بدصورت ہو اور ” سییء یسائ “ جب قبیح ہو۔ ” وقیل “ اس کو یعنی ان کو داروغ کہیں گے۔ ” ھذا “ یعنی یہ عذاب۔ ” الذی کنتم بہ تدعون “…” تفتعلون “ کے وزن پر دعاء سے ہے۔ یعنی تم تمنا ودعا کرتے تھے کہ وہ تمہارے لئے بنایا جائے اور یعقوب (رح) نے تدعون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ قتادہ (رح) کی قرات ہے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے جیسے ” تذکرون وتذکرون “۔
Top