Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 63
بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ
بَلْ : بلکہ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل فِيْ غَمْرَةٍ : غفلت میں مِّنْ ھٰذَا : اس سے وَلَهُمْ : اور ان کے اَعْمَالٌ : اعمال (جمع) مِّنْ دُوْنِ : علاوہ ذٰلِكَ : اس هُمْ لَهَا : وہ انہیں عٰمِلُوْنَ : کرتے رہتے ہیں
بلکہ ان کے دل اس دین کی طرف سے جہالت میں ہیں علاوہ اور بھی ان کے اعمال ہیں جنہیں وہ کرتے ہیں
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ میں غمرہ سے مراد ہے کفر اور شک۔ آیت ” ولہم اعمال من دون ذلک “ یعنی شرک کے علاوہ اور بی ان کے برے اعمال ہیں۔ آیت ہم لھا عملون “ کہ جن پر عمل کرنا ان کے لیے ضرور ہے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ یعنی وہ اس قرآن سے اندھے ہیں آیت ” ولہم اعمال “ یعنی ان کے بھی برے اعمال ہیں ” من دون ذلک ہم لہا عملون “ یعنی وہ ان برے کاموں کو لازمی طور پر کرتے ہیں۔ 3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ یعنی مؤمنین کے اعمال سے ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ آیت ” ولہم اعمال من دون ذلک “ یعنی ان کے اور اعمال بھی ہیں جو مومنوں کے اعمال سے برے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا کہ آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ (المومنون آیت 57) یعنی جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر کافروں کے لیے فرمایا آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا ولہم “ یعنی ان کے او اعمال بھی ہیں جن کو الذین والذین والذین کا نام دیا گیا (یعنی جن کے باعث ان کو یہ یہ نام دیے گئے )
Top