Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 62
وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ
وَلَا نُكَلِّفُ : اور ہم تکلیف نہیں دیتے نَفْسًا : کسی کو اِلَّا : مگر وُسْعَهَا : اس کی طاقت کے مطابق وَلَدَيْنَا : اور ہمارے پاس كِتٰبٌ : ایک کتاب (رجسٹر) يَّنْطِقُ : وہ بتلاتا ہے بِالْحَقِّ : ٹھیک ٹھیک وَهُمْ : اور وہ (ان) لَا يُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے (ظلم نہ ہوگا)
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے اور لوگوں پر ظلم بہر حال نہیں کیا جائے گا
ولا نکلف لا یظلمون (آیت نمبر 26) اللہ نے انسان کچھ فرائض عائد کیے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ فرائض اور تکالیف انسانی استعداد کے مطابق عائد کی ہیں۔ اور یہ بات اللہ خوب جانتا ہے کہ انسان اس کی مخلوق ہے اور حساب بھی اللہ اس عمل کالے گا جو ان کے حد استطاعت میں ہو۔ اللہ انسانوں پر یہ ظلم نہیں کرتا تا کہ ان پر اس قدر بوجھ لاد دے جس کو وہ اٹھا نہیں سکتے۔ نہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی بھی چیز کو چھوڑدے گا یا ساقط کردے گا۔ جو بھی وہ کریں گے اس کا حساب درج ہوگا۔ ینطق بالحق (23 : 62) ” ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی ۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ان کے دل حقیقت سے بیخبر ہیں۔ ان میں وہ روشنی داخل ہی نہیں ہوئی جو دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس روشنی کو چھوڑ کر دوسرے کاموں مین مشغول ہوگئے ہیں اور اپنی ان مشغولیات میں بہت ہی آگے جاچکے ہیں جس وقت انہیں ہوش آئے گا تو ان کے سامنے عذاب الیم ہوگا اور اس عذاب کے ساتھ توبیخ اور سرزنش بھی ہوگی اور ان کو ایک حقارت انگیز سلوک کا سا منا کرنا ہوگا۔
Top