Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 62
وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ
وَلَا نُكَلِّفُ : اور ہم تکلیف نہیں دیتے نَفْسًا : کسی کو اِلَّا : مگر وُسْعَهَا : اس کی طاقت کے مطابق وَلَدَيْنَا : اور ہمارے پاس كِتٰبٌ : ایک کتاب (رجسٹر) يَّنْطِقُ : وہ بتلاتا ہے بِالْحَقِّ : ٹھیک ٹھیک وَهُمْ : اور وہ (ان) لَا يُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے (ظلم نہ ہوگا)
اور ہم کسی جان پر ذمہ داری نہیں ڈالتے مگر اتنی ہی جتنی کہ اس میں طاقت ہے ، ہمارے پاس نوشتہ ہے جو ٹھیک ٹھیک حکم لگا دیتا ہے ایسے کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی جان کے ساتھ ناانصافی ہو
ہمارا قانون ہے کہ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے : 62۔ زیر نظر آیت پر بھی ذرا رک جاؤ اور غور کرو کہ کیا حقیقت اس میں واضح کی گئی فرمایا یہاں فطرت کا یہ قانون کام کر رہا ہے کہ کسی جان پر اس کی جسمانی اور معنوی استطاعت ودیعت کی گئی ہے گویا فطرت نے ہر وجود کو استعداد دی ہے اور اس استعداد کے جواب میں عمل چاہتی ہے لیکن عمل کا یہ تقاضا ٹھیک ٹھیک اتنا ہی ہوتا ہے جتنے کی استعداد اسے دیدی گئی ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی کو استعداد عمل تو چھٹانک بھر دی ہو اور مطالبہ عمل کا بوجھ اس پر سیر بھر کا ڈال دیا جائے ، رہی یہ بات کو یہ مطالبہ عمل کس بات میں ہوتا ہے ؟ فرائض ہستی کی انجام دہی میں ہر وجود کو اپنی بقا وتکمیل کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے لیکن جتنی کچھ اور جیسی کچھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے اتنی ہی اور اس کیفیت کی استعداد بھی اسے دے دی گئی ہے اور فرض کا مطالبہ اس سے زیادہ نہیں ہوتا جتنی اس کی طاقت و گنجائش ہے اگر استعداد اور مطالبہ وعمل میں یہ تطابق نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ کوئی جان یہاں زندہ رہ سکتی ، قرآن کریم کہتا ہے جب اللہ کا یہ قانون ہر جان کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ انسانی کے لئے بھی ہو اور جس طرح عالم جسم و صورت میں جاری ہے ضروری ہے کہ روح ومعنی میں بھی ہو ۔ پس سعادت روحانی کے لئے بھی جو مطالبہ عمل ہے وہ ٹھیک ٹھیک انسان کی استعداد عمل کے مطابق ہے اور یہاں عالم جسم وروح دونوں کے لئے اس کا قانون ایک ہی اور اس میں ہر طرح کی تکلیف آگئی ہے تکلیف کے لئے ہمیں کوئی اور موزوں لفظ دستیاب نہیں ہوا اس لئے مجبورا ہم نے ” ذمہ داری “ کی ترکیب استعمال کی ہے اگر کسی کو اس سے موزوں لفظ مل جائے تو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارے خیال میں اداء مفہوم کے لئے نسبتا یہی لفظ بہتر ہے اور بہت سے مفہوم کا جامع بھی ، آخر میں اپنے قانون کی مزید وضاحت کردی کہ ہماری کتاب جو کچھ بولتی ہے حق ہے اور ظلم نام کی شے ہمارے ہاں مطلق نہیں ہے ۔
Top