بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mutaliya-e-Quran - An-Nahl : 1
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠   ۧ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اجْعَلْ : مقرر فرما دے لِّيْٓ : میرے لیے اٰيَةً : کوئی نشانی قَالَ : اس نے کہا اٰيَتُكَ : تیری نشانی اَلَّا : کہ نہ تُكَلِّمَ : بات کرے گا النَّاسَ : لوگ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ : تین دن اِلَّا : مگر رَمْزًا : اشارہ وَاذْكُرْ : تو یاد کر رَّبَّكَ : اپنا رب كَثِيْرًا : بہت وَّسَبِّحْ : اور تسبیح کر بِالْعَشِيِّ : شام وَالْاِبْكَارِ : اور صبح
آ گیا اللہ کا فیصلہ، اب اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ پاک ہے وہ اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
[اَتٰٓى: ا ] [ اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم ] [ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ : پس تم لوگ جلدی مت مچائو اس کی ] [سُبْحٰنَهٗ : پاکیزگی اس کی ہے ] [ وَتَعٰلٰى: اور وہ بلند ہوا ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] نوٹ۔ 1: اَتٰی ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے معنی یہی ہیں کہ ” وہ پہنچا “۔ اس لئے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن عربی کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بات کو یقینی بنانے کے لئے مستقبل کے بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3) یہاں آیت نمبر۔ 1 میں اَتٰی اسی انداز میں آیا ہے۔ اس کی توثیق آیت کے اگلے حصے فَلَاتَسْتَعْجِلُوْنَ سے ہو رہی ہے۔ اس لئے یہاں اَتٰی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا حکم لازماً پہنچے گا۔
Top