Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کرتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
دوسری آیت میں منکرین و معاندین کو نصیحت کی گئی ہے کہ اب بھی کفر و انکار سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کی خطاؤں کو بخش دیتا ہے۔
توبہ کی حقیقت
توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لئے تین شرائط ہیں۔
ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کر دے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں لگ جائے اور اگر گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے تو اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ اگر کسی کا مال اپنے اوپر واجب ہے اور وہ شخص زندہ ہے تو یا اسے وہ مال لوٹائے یا اس سے معاف کرائے اور اگر وہ زندہ نہیں اور اس کے ورثہ موجود ہیں تو ان کو لوٹائے، اگر ورثہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال میں داخل کرائے، بیت المال بھی نہیں ہے یا اس کا انتظام صحیح نہیں ہے تو اس کی طرف سے صدقہ کر دے، اور اگر کوئی غیر مالی حق کسی کا اپنے ذمہ واجب ہے، مثلاً کسی کو ناحق سنایا ہے، برا بھلا کہا ہے یا اس کی غیبت کی ہے تو اسے جس طرح ممکن ہے راضی کر کے اس سے معافی حاصل کرے۔
اور یہ تو ہر قسم کی توبہ کے لئے ضروری ہے ہی کہ گناہ کا ترک کرنا اللہ کے لئے ہے، اپنے کسی جسمانی ضعف یا مجبوری کی بنا پر نہ ہو۔ اور شریعت میں اصل مطلوب تو یہ ہے کہ توبہ سارے ہی گناہوں سے کی جائے، لیکن اگر صرف کسی خاص گناہ سے توبہ کی گئی تو اہل سنت کے مسلک کے مطابق اس گناہ کی حد تک تو معافی ہوجائے گی، دوسرے گناہوں کا وبال سر پر رہے گا۔
Top