Taiseer-ul-Quran - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو 39 وہ اسے جانتا ہے
39 توبہ کی شرائط :۔ یہ خطاب صرف ایمانداروں سے نہیں بلکہ ان کافروں کو بھی شامل ہے جو آپ پر الزام تراشیاں کرتے تھے۔ اس آیت میں انہیں اپنے انہی بداعمالیوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کافروں کی توبہ اسلام لانا ہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقاً چھوڑ دینے کا عہد کرنا ہے۔ توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔ اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑ دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ شراب اس کی صحت تباہ کر رہی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم بھی ہوتا اور آئندہ کے لیے شراب نوشی ترک کر دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس طرح کوئی زانی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور یہ فعل آئندہ اس لیے ترک کردینے کا عہد کرے کہ اب وہ بوڑھا ہوچکا ہے اور زنا کے قابل ہی نہیں رہا۔ تو یہ اس کی توبہ نہ ہوگی۔ اور اللہ کو تو معلوم ہے کہ کوئی کس نیت سے توبہ کر رہا ہے۔
Top