Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
وَھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 25، 26) (اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے، اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) توبہ اور اصلاح کی ترغیب گزشتہ آیت میں کفار کو سرزنش کرنے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے لب و لہجہ کو دیکھ کر دشمن بھی شاید یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ نہ ہوتی تو کہیں تو اس میں انسانی جذبات کا زیروبم نظر آتا۔ تنبیہ اور سرزنش کے بعد توبہ کی ترغیب صرف اس ذات خداوندی کا کمال ہے جو ہر طرح کے جذبات سے بلند ہے اور جو انسانوں کو جہنم سے دور اور جنت کے قریب دیکھنا چاہتی ہے۔ چناچہ ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی پر جھوٹے الزامات لگا کر اپنی آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق بنانے کی بجائے اب بھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ تم اگر توبہ کرو گے تو وہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔ وہ صرف گزشتہ گناہوں کو ہی معاف نہیں کرے گا بلکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعائیں قبول فرمائے گا اور اپنے فضل و کرم سے انھیں گراں بار کردے گا۔ لیکن اگر تم نے اپنے کفر کا رویہ جاری رکھا تو اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، تم اپنے آپ کو آخرت میں عذاب شدید کا مستحق بنا لو گے۔ توبہ کی حقیقت توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لیے تین شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کردے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں لگ جائے اور اگر گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے تو اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ اگر کسی کا مال اپنے اوپر واجب ہے اور وہ شخص زندہ ہے تو یا اسے وہ مال لوٹائے یا اس سے معاف کرائے اور اگر وہ زندہ نہیں اور اس کے ورثہ موجود ہیں تو ان کو لوٹائے، اگر ورثہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال میں داخل کرائے، بیت المال بھی نہیں ہے یا اس کا انتظام صحیح نہیں ہے تو اس کی طرف سے صدقہ کردے، اور اگر کوئی غیرمالی حق کسی کا اپنے ذمہ واجب ہے، مثلاً کسی کو ناحق ستایا ہے، برا بھلا کہا ہے، یا اس کی غیبت کی ہے تو اسے جس طرح ممکن ہو راضی کرکے اس سے معافی حاصل کرے۔ اور یہ تو ہر قسم کی توبہ کے لیے ضروری ہے ہی کہ گناہ کا ترک کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اپنے کسی جسمانی ضعف یا مجبوری کی بنا پر نہ ہو۔ اور شریعت میں اصل مطلوب توبہ ہے کہ توبہ سارے ہی گناہوں سے کی جائے، لیکن اگر صرف کسی خاص گناہ سے توبہ کی گئی تو اہل سنت کے مسلک کے مطابق اس گناہ کی حد تک تو معافی ہوجائے گی، دوسرے گناہوں کا وبال سر پر رہے گا۔ (معارف القرآن)
Top