Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں
چوتھی صفت
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠۔ استجابت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملے اس کو فوراً بےچون و چرا اور بےتامل قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجائے وہ اپنی طبیعت کے مطابق ہو یا مخالف، ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ اس میں اسلام کے تمام فرائض کی ادائیگی اور تمام محرمات و مکروہات سے بچنے کی پابندی شامل ہے مگر فرائض میں چونکہ نماز سب سے اہم فرض ہے۔ اور اس میں یہ خاصہ بھی ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دوسرے فرائض کی پابندی اور ممنوع چیزوں سے بچنے کی توفیق بھی ہوجاتی ہے اس لئے اس کو ممتاز کر کے فرما دیا، واقاموا الصلوٰة یعنی یہ لوگ نماز کو اس کے تمام واجبات اور آداب کے ساتھ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
پانچویں صفت
وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠۔ یعنی ان کے کام آپس میں مشورہ سے طے ہوتے ہیں۔ شوریٰ بروزن بشریٰ مصدر ہے۔ تقدیر عبارت ذو شوریٰ ہے۔ مراد یہ ہے کہ مہمات امور جن میں شریعت نے کوئی خاص حکم متعین نہیں کردیا ہے ان کو طے کرنے میں یہ باہمی مشورہ سے کام لیتے ہیں۔ مہمات امور کی قید خود لفظ امر سے مستفادہ ہے۔ کیونکہ عرف میں امر ایسے ہی کاموں کے لئے بولا جاتا ہے جن کی اہمیت ہو۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی (آیت) وشاور ھم فی الامر کے تحت تفصیل گزر چکی ہے اس میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ مہمان امور میں امور مملکت و حکومت بھی داخل ہیں اور عام معاملات مہمہ بھی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مہمات مملکت میں مشورہ لینا واجب ہے۔ اسلام میں امیر کا انتخاب بھی مشورہ پر موقوف کر کے زمانہ جاہلیت کی شخصی بادشاہتوں کو ختم کیا ہے۔ جنہیں ریاست بطور وراثت کے ملتی تھی۔ اسلام نے سب سے پہلے اس کو ختم کر کے حقیقی جمہوریت کی بنیاد ڈالی مگر مغربی جمہوریت کی طرح عوام کو ہر طرح کے اختیارات نہیں رہتے، اہل شوریٰ پر کچھ پابندیاں عائد فرمائی ہیں۔ اس طرح اسلام کا نظام حکومت شخصی بادشاہت اور مغربی جمہوریت دونوں سے الگ ایک نہایت معتدل دستور ہے۔ اس کی تفصیل معارف القرآن جلد دوم 512 سے ص 222 تک میں ملاحظہ فرماویں۔
امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے مشورہ کی اہمیت واضح ہوگئی اور یہ کہ ہم اس پر مامور ہیں کہ ایسے مشورہ طلب اہم کاموں میں جلد بازی اور خودرائی سے کام نہ کریں۔ اہل عقل و بصیرت سے مشورہ لے کر قدم اٹھائیں۔
مشورہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ
خطیب بغدادی نے حضرت علی مرتضیٰ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے، جس میں قرآن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور آپ سے بھی اس کا کوئی حکم ہمیں نہیں ملا تو ہم کیسے عمل کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اس کے لے میری امت کے عبادت گزاروں کو جمع کرلو اور آپس میں مشورہ کر کے طے کرلو۔ کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔
اس روایت کے بعض الفاظ میں فقہاء و عابدین کا لفظ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ مشورہ ان لوگوں سے لینا چاہئے جو فقہاء یعنی دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور عبادت گزار ہوں۔
صاحب روح المعانی نے فرمایا کہ جو مشورہ اس طریق پر نہیں بلکہ بےعلم بےدین لوگوں میں دائر ہو اس کا فساد اس کی اصلاح پر غالب رہے گا۔
بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کام کا ارادہ کیا اور اس میں مشورہ لے کر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ارشد امور کی طرف ہدایت فرما دے گا۔ یعنی اس کا رخ اس طرف پھیر دے گا جو اس کے لئے انجام کار خیر اور بہتر ہو۔ اسی طرح کی ایک حدیث بخاری نے الادب المفرد میں اور عبد بن حمید نے مسند میں حضرت حسن سے بھی نقل کی ہے۔ جس میں آپ نے آیت مذکورہ پڑھ کر یہ فرمایا ہے۔
ماتشاور قوم قط الاھدوا لارشد امرھم۔
جب کوئی قوم مشورہ سے کام کرتی ہے تو ضرور ان کو صحیح راستہ کی طرف ہدایت کردی جاتی ہے۔
حدیث
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تمہارے امراء اور حکام وہ لوگ ہوں جو تم میں بہتر ہیں اور تمہارے مالدار لوگ سخی ہوں (کہ اللہ کی راہ میں اور غرباء پر خرچ کریں) اور تمہارے کام باہمی مشورہ سے طے ہوا کریں۔ اس وقت تک تمہارے لئے زمین کے اوپر رہنا یعنی زندہ رہنا بہتر ہے اور جب تمہارے امراء و حکام تمہاری قوم کے برے لوگ ہوجاویں اور تمہارے مالدار بخیل ہوجاویں اور تمہارے کام عورتوں کے سپرد ہوجاویں کہ وہ جس طرح چاہیں کریں۔ اس وقت تمہارے لئے زمین کی پیٹھ کی بجائے زمین کا پیٹ بہتر ہوگا یعنی زندگی سے موت بہتر ہوگی۔ (روح المعانی)
چھٹی صفت
(آیت) وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَیعنی وہ لوگ اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ جس میں زکوٰة، فرض اور نفلی صدقات سب شامل ہیں۔ عام اسلوب قرآن کے مطابق زکوٰة و صدقات کا ذکر نماز کے متصل آنا چاہئے تھا، یہاں نماز کے ذکر کے بعد مشورہ کا مسئلہ پہلے بیان کر کے پھر زکوٰة کا بیان آیا۔ اس میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ اقامت نماز کے لئے مساجد میں پانچ وقت اجتماع ہوتا ہے۔ اس اجتماع سے مشورہ طلب امور میں مشورہ لینے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ (روح المعانی)
Top