Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے بنایا مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام اور وہ زبردست ہے بخشنے والا
موت وحیات کی حقیقت
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ یعنی پیدا کیا اس نے موت اور حیات کو احوال انسانی میں سے یہاں صرف دو چیزیں موت وحیات بیان کی گئیں کیونکہ یہی دونوں انسان کے تمام عمر کے احوال و افعال پر حاوی ہیں۔ حیات کے لئے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہر ہے کہ حیات ایک وجودی چیز ہے تخلیق وتکوین کا اس سے متعلق ہونا ظاہر ہے لیکن موت و جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا، اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے اور یہ ایک وجودی چیز ہے۔ غرض جس طرح حیات ایک حال ہے جو جسم انسانی پر طاری ہوتا ہے اسی طرح موت بھی ایک ایسا ہی حال ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور بعض دوسرے ائمہ تفسیر سے جو یہ منقول ہے کہ موت وحیات دو مجسم مخلوق ہیں، موت ایک مینڈھے کی شکل میں اور حیات ایک گھوڑی کی شکل میں ہے۔ اس سے مراد بظاہر اس صحیح حدیث کا بیان ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت میں اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور پل صراط کے پاس اس کو ذبح کر کے اعلان کردیا جائے گا کہ اب جو جس حالت میں ہے وہ دائمی اور ابدی ہے اب کسی کو موت نہیں آئے گی، مگر اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ دنیا میں موت کوئی جسم ہو بلکہ جس طرح دنیا کے بہت سے احوال و اعمال قیامت میں مجسم اور متشکل ہوجائیں گے جو بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اسی طرح موت جو انسان کو پیش آنے والی ایک حالت ہے وہ بھی قیامت میں مجسم ہو کر مینڈھے کی شکل میں ذبح کردی جائے گی۔ (قرطبی)
اور تفسیر مظہری میں فرمایا کہ موت اگرچہ عدمی چیز ہے مگر عدم محض نہیں، بلکہ ایسی چیز کا عدم ہے جس کو وجود میں کسی وقت آنا ہے اور ایسے تمام معدومات کی شکلیں عالم مثال میں قبل از وجود ناسوتی موجود ہوتی ہیں جن کو اعیان ثابتہ کہا جاتا ہے ان اشکال کی وجہ سے ان کو قبل الوجود بھی ایک قسم کا وجود حاصل ہغے اور عالم مثال کے موجود ہونے پر بہت سی روایات حدیث سے استدلال فرمایا ہے واللہ اعلم
موت وحیات کے درجات مختلفہ۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے اپنی قدرت اور حکمت بالغہ سے مخلوقات و ممکنات کو مختلف اقسام میں تقسیم فرما کر ہر ایک کو حیا کی ایک قسم عطا فرمائی ہے۔ سب سے زیادہ کامل و مکمل حیات انسان کو عطا فرمائی جس میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی کہ وہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ایک خاص حد تک حاصل کرسکے اور یہ معرفت ہی بناء تکلیف احکام شرعیہ اور وہ بار امانت ہے جس کے اٹھانے سے آسمان و زمین اور پہاڑ سب ڈر گئے اور انسان نے اپنی اس خدا داد صلاحیت کے سبب اٹھا لیا اس حیات کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی (آیت) اومن کان میتا فاحیینہ میں ذکر فرمایا ہے کہ کافر کو مردہ اور مومن کو زندہ قرار دیا گیا کیونکہ کافر نے اپنی اس معرفت کو ضائع کردیا جو انسان کی مخصوص حیات تھی، اور بعض اصناف و اقسام مخلوقات میں یہ درجہ حیات کا تو نہیں مگر حس و حرکت موجود ہے اس کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی (آیت) کنتم امواً تا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم میں آیا ہے کہ اس جگہ حیات سے مراد حس و حرکت اور موت سے مراد اس کا ختم ہوجانا ہے اور بعض اقسام ممکنات میں یہ حس و حرکت بھی نہیں صرف نمو (بڑھنے کی صالحیت) ہے جیسے عام درختوں اور نباتات میں اس کے بالمقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کی (آیت) یحییٰ الارض بعد موتھا میں آیا ہے۔ حیات کی یہ تین قسمیں انسان، حیوان، نبات میں منحصر ہیں ان کے عالوہ اور کسی چیز میں یہ اقسام حیات نہیں ہیں اسی لئے حق تعالیٰ پتھروں سے بنے ہوئے بتوں کے متعلق فرمایا اموات غیر احیآء لیکن اس کے باوجود جمادات میں بھی ایک خاص حیات موجود ہے جو وجود کیساتھ لازم ہے۔ اسی حیات کا اثر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے (آیت) وان من شیء الا یسبح بحمدہ یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کی تسبیح نہ پڑھتی ہو اور آیت میں موت کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بھی اس بیان سے واضح ہوگئی کہ اصل کے اعتبار سے موت ہی مقدم ہے۔ ہر چیز جو وجود میں آئی ہے پہلے موت کے عالم میں تھی بعد میں اس کو حیات عطا ہوئی ہے اس لئے موت کا ذکر مقدم کیا گیا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آگے جو موت وحیات کی تخلیق کی وجہ انسان کی آزمائش و ابتلاء کو قرار دیا ہے لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا یہ آزمائش یہ نسبت حیات کے موت میں زیادہ ہے۔ کیونکہ جس شخص کو اپنی موت کا استحضار ہوگا وہ اچھے اعمال کی پابندی زیادہ سے زیادہ کرے گا اور اگرچہ یہ آزمائش حیات میں بھی ہے کہ زندگی کے قدم قدم پر اس کو اپنا عجز اور اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا استحضار ہوتا رہتا ہے جو حسن عمل کی طرف داعی ہے لیکن موت کی فکر اصلاح عمل اور حسن عمل میں سب سے زیادہ مؤثر ہے۔
حضرت عمار بن یاسر کی حدیث مرفوع میں ہے کفی بالموت واعظار کفی بالیقین غنی، یعنی موت و عظ کے لئے کافی ہے اور یقین غنی کے لئے (رواہ البرانی) مراد یہ ہے کہ اپنے دوستوں عزیزوں کی موت کا مشاہدہ سب سے بڑا واعظ ہے جو اس سے متاثر نہیں ہوتا اس کا دوسری چیزوں سے متاثر ہونا مشکل ہے اور جس کو اللہ نے ایمان یقین کی دولت عطا فرمائی اس کی برابر کوئی غنی و بےنیاز نہیں اور ربیع بن انس نے فرمایا کہ موت انسان کو دنیا سے بیزار کرنے اور آخرت کی طرف رغبت دینے کے لئے کافی ہے۔
احسن عملاً یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ انسان کی اس آزمائش میں جو اس کی موت وحیات سے وابستہ ہے حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم میں سے کس کا عمل اچھا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ کس کا عمل زیادہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کی مقدار کا زیادہ ہونا قابل توجہ نہیں بلکہ عمل کا اچھا اور صحیح و مقبول ہونا معتبر ہے اسی لئے قیامت میں انسان کے اعمال کو گنا نہیں جائے گا بلکہ تولا جائے گا جس میں بعض ایک ہی عمل کا وزن ہزاروں اعمال سے بڑھ جائے گا۔
حسن عمل کیا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ احسن عملاً تک پہنچے تو فرمایا کہ (احسن عملاً) وہ شخص ہے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے سب سے زیادہ پرہیز کرنے والا ہو اور اللہ کی اطاعت میں ہر وقت مستعد و تیار ہو (قرطبی)
Top