Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے
2 : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ (جس نے موت وحیات کو پیدا کیا) نحو : مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ پہلے الذی سے بدل ہے۔ الحیاۃ : جس کے پائے جانے سے احساس درست ہو۔ الموتؔ : جس کے پائے جانے سے احساس درست نہ رہے۔ خلق ‘ موت وحیات کا معنی : اس مصح (تندرست) کا ایجاد حیات اور اعدام موت ہے۔ مطلب یہ ہے اے مکلف (انسانوں) اس نے تمہاری موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ لِیَبْلُوَکُمْ ( تاکہ تمہاری آزمائش کرے) تاکہ وہ اپنے امرو نہی سے۔ اس موت اور زندگی کے ذریعہ تمہارا امتحان لے، جو موت امیر و اسیر کو شامل ہے اور جو زندگی بیمار و طبیب ہر دو سے بےوفائی کرنے والی ہے۔ تاکہ تم سے وہ ظاہر ہو جو اس کے علم میں ہے کہ تم سے ظاہر ہوگا۔ پھر وہ تمہارے عمل پر تمہیں بدلہ دے گا۔ نہ کہ اپنے علم پر جو اسے تمہارے متعلق ہے۔ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے) ایکم مبتدأ اور احسن عملاً اس کی خبر ہے۔ احسن ؔ زیادہ خالص ‘ زیادہ باصواب، الخالص : خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے جو کریں۔ الصواب : سنت کے بالکل مطابق ہو۔ المراد المطلوب : اس نے تمہیں زندگی بخشی جس کے ذریعہ عمل کی توفیق ملی۔ پھر اس نے موت کو مسلط کیا جو کہ تمہیں دعوت دے رہی ہے۔ کہ قبیح کے مقابلہ میں تم حسن عمل کو اختیار کرو۔ پس موت کے بعد تو بعث اور وہ جزاء ہے جس نے بہر صورت پیش آنا ہے۔ موت کی وجہ ِتقدیم : موت کو حیات سے مقدم کیا کیونکہ عمل کا سب سے مضبوط داعی موت ہے۔ جس نے اپنی موت کو سامنے رکھا اس نے خوب عمل کیا یہاں موت کو اس لئے بھی مقدم کیا کہ سیاق آیت کے اعتبار سے بھی زیادہ اہم یہی ہے۔ جب موت کو پہلے لائے جو صفت قہاریت کا پر تو ہے اور زندگی کو جو کہ لطف الٰہی کا اثر ہے بعد میں ذکر کیا گیا۔ اسی ترتیب ذکری کے لحاظ سے صفت قہری کو مہری سے مقدم کیا فرمایا وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست) یعنی ایسا غالب ہے کہ برا عمل کرنے والا اس کو تھکا نہیں سکتا۔ الْغَفُوْرُ (بخشنے والا ہے) ستار ایسا کہ کوئی بڑے سے بڑے گناہ و لغزش والا اس کی بارگاہ سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
Top