Maarif-ul-Quran - Al-A'raaf : 168
وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ
وَقَطَّعْنٰهُمْ : اور پراگندہ کردیا ہم نے انہیں فِي الْاَرْضِ : زمین میں اُمَمًا : گروہ در گروہ مِنْهُمُ : ان سے الصّٰلِحُوْنَ : نیکو کار وَمِنْهُمْ : اور ان سے دُوْنَ : سوا ذٰلِكَ : اس وَبَلَوْنٰهُمْ : اور آزمایا ہم نے انہیں بِالْحَسَنٰتِ : اچھائیوں میں وَالسَّيِّاٰتِ : اور برائیوں میں لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ يَرْجِعُوْنَ : رجوع کریں
اور متفرق کردیا ہم نے ان کو ملک میں فرقے فرقے، بعض ان میں نیک اور بعض اور طرح کے اور ہم نے ان کی آزمائش کی خوبیوں میں اور برائیوں میں تاکہ وہ پھر آئیں ،
دوسری آیت میں یہودیوں پر ایک اور سزا کا ذکر ہے، جو اسی دنیا میں ان کو دی گئی وہ یہ کہ ان کی آبادی دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر اور متفرق ہوگئی، کسی جگہ ایک ملک میں ان کا اجتماع نہ رہا، (آیت) وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا کا یہی مطلب ہے قَطَّعنَا، مصدر تقطیع سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا، اور امم، امة کی جمع ہے جسکے معنی ہیں، ایک جماعت یا ایک فرقہ، مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہود کی قوم کے ٹکڑے ٹکرے زمین کے مختلف حصوں میں متفرق کردیئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اور اکثریت اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان ہے اور اس کا مختلف جگہوں میں منتشر ہوجانا ایک طرح کا عذاب الہی، مسلمانوں پر حق تعالیٰ کا یہ انعام ہمیشہ رہا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت رہے گا کہ وہ جس جگہ رہے ان کی ایک زبردست اجتماعی قوت وہاں پیدا ہوگئی، مدینہ طیبہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور مشرق و مغرب میں اسی کیفیت کے ساتھ حیرت انگیز طریقہ پر بھیلا، مشرق بعید میں، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ مستقل اسلامی حکومتیں اسی کے نتیجہ میں بنیں، اس کے بالمقابل یہودیوں کا حال ہمیشہ یہ رہا کہ مختلف ملکوں میں منتشر رہے، مالدار کتنے بھی ہوں مگر اقتدار و اختیار ان کے ہاتھ نہ آیا۔
چند سال سے فلسطین کے ایک حصہ میں ان کے اجتماع اور مصنوعی اقتدار سے دھوکہ نہ کھایا جائے اجتماع تو ان کا اس جگہ میں آخری زمانہ میں ہونا ہی چا ہئے تھا کیونکہ صادق مصدوق رسول کریم ﷺ کی احادیث صحیحہ میں قرب قیامت کے لئے یہ خبر دی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے، نصاری سب مسلمان ہوجائیں گے اور یہودیوں سے جہاد کر کے ان کو قتل کریں گے، خدا کا مجرم وارنٹ اور پولیس کے ذریعہ پکڑ کر نہیں بلایا جاتا بلکہ وہ تکوینی اسباب ایسے جمع کردیتے ہیں کہ مجرم اپنے پاؤں چل کر ہزاروں کوششیں کرکے اپنی قتل گاہ پر پہنچتا ہے، حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ملک شام دمشق میں ہونے والا ہے، یہودیوں کے ساتھ معرکہ بھی یہیں بننا ہے تاکہ عیسیٰ ؑ کے لئے ان کا قلع قمع کردینا سہل ہو، قدرت نے دنیا کی پوری عمر میں تو یہیودیوں کو مختلف ملکوں میں منتشر رکھ کر محکومیت اور بےقدری کا عذاب چکھا یا اور آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی آسانی کے لئے ان کو ان کے مقتل میں جمع فرمادیا اس لئے یہ اجتماع اس عذاب کے منافی نہیں۔
رہا ان کی موجودہ حکومت اور مصنوعی اقتدار کا قضیہ سو یہاں ایک ایسا دھوکہ ہے جس پر آج کی مہذب دنیا نے اگرچہ بہت خوبصورت ملمع کا پردہ چڑھایا ہوا ہے لیکن کوئی دنیا کی سیاست سے باخبر انسان ایک منٹ کے لئے بھی اس سے دھوکہ نہیں کھا سکتا کیونکہ آج جس خطہ کو اسرائیل مملکت کا نام دیا جاتا ہے وہ در حقیقت روس، امریکہ اور انگلینڈ کی ایک مشترک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی وہ محض ان حکومتوں کی امداد سے زندہ ہے اور ان کے تابع فرمان رہنے ہی میں اس کے وجود کا راز مضمر ہے، ظاہر ہے کہ اس حقیقی غلامی کو مجازی حکومت کا نام دے دینے سے اس قوم کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہوجاتا، قرآن کریم نے ان کے بارے میں تا قیامت رسوائی اور خواری کے جس عذاب کا ذکر کیا ہے وہ آج بھی بدستور موجود ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے، (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، یعنی جب کہ آپ کے رب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان لوگوں پر کسی ایسی طاقت کو قیامت تک مسلط کردے گا جو ان کو برا عذاب چکھائے۔
جیسا کہ اول سلیمان ؑ کے ہاتھ سے پھر بخت نصر کے ذریعہ اور آخر میں رسول کریم ﷺ کے ہاتھ سے اور باقیماندہ حضرت فاروق اعظم کے ذریعہ ہر جگہ سے ذلت و خواری کے ساتھ ان کا نکالا جانا مشہور و معروف اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے۔
اس آیت کا دوسرا جملہ یہ ہے (آیت) مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ، یعنی ان لوگوں میں کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے، دوسری طرح سے مراد کفار فجار بدکار لوگ ہیں مطلب یہ ہے کہ یہودیوں میں سب ایک ہی طرح کے لوگ نہیں، کچھ نیک بھی ہیں، مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو تورات کے زمانہ میں احکام تورات کے پورے پابند رہے، نہ ان کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے نہ کسی تاویل و تحریف کے درپے ہوئے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ حضرات ہوں جو نزول قرآن کے بعد قرآن کے تایع ہوگئے، اور رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے، اس کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کو آسمانی کتاب ماننے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی یا اس کے احکام میں تحریف کرکے اپنی آخرت کو دنیا کی گندی چیزوں کے بدلہ میں بیچ ڈالا۔
آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم نے اچھی بری حالتوں سے ان کا امتحان لیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ اچھی حالتوں سے مراد ان کو مال و دولت کے ذخیرے اور عیش و عشرت کے سامان دینا ہے، اور بری حالتوں سے مراد یا تو ذلت و خواری کے وہ واقعات ہیں جو ہر زمانہ میں مختلف صورتوں سے پیش آتے رہے اور یا کسی وقت کا قحط و افلاس جو ان پر ڈالا گیا وہ مراد ہے، بہرحال مطلب یہ ہے کہ انسان کی فرماں برداری یا سرکشی کا امتحان لینے کے دو ہی طریقے ہیں، دونوں استعمال کر لئے گئے ایک یہ کہ احسانات و انعامات کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ احسان کرنے والے اور انعام دینے والے کے شکر گزار فرمانبردار ہر تے ہیں یا نہیں، دوسرے یہ کہ ان کو مختلف تکلیفوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے اور اپنی بد اعمالیوں سے توبہ کرتے ہیں یا نہیں۔
لیکن قوم یہود ان دونوں امتحانوں میں فیل ہوگئی۔
جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمت کے دروازے کھولے، مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی تو کہنے لگے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ، یعنی (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ فقیر ہیں اور ہم غنی، اور جب ان کو افلاس و ناداری سے آزمایا گیا تو کہنے لگے ید اللہ مغلولة، یعنی اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا۔
فوائد
اس آیت سے ایک فائدہ تو یہ حاصل ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا منتشر ہونا عذاب، دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس دنیا کی راحت و کلفت اور خوشی و غم درحقیقت خداوندی امتحان کے مختلف پرچے ہیں جن کے ذریعے اس کے ایمان اور خدا پرستی کی آزمائش کی جاتی ہے، نہ یہاں کی تکلیف کچھ زیادہ رونے دھونے کی چیز ہے نہ کوئی راحت مسرور و غرور ہوجانے کا سامان، عاقبت اندیش عقلمند کے لئے یہ دونوں چیزیں قابل توجہ نہیں۔
نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ہمت ماہر چہ آمد بود مہمانے
Top