Maarif-ul-Quran - Al-Insaan : 8
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا
وَيُطْعِمُوْنَ : اور وہ کھلاتے ہیں الطَّعَامَ : کھانا عَلٰي : پر حُبِّهٖ : اس کی محبت مِسْكِيْنًا : محتاج، مسکین وَّيَتِيْمًا : اور یتیم وَّاَسِيْرًا : اور قیدی
اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا کھلانا حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہے جو شخص اس کو کھانا کھلاتا ہے وہ گویا حکومت اور بیت المال کی اعانت کرتا ہے اس لئے قیدی چاہے کافر بھی ہو اس کو کھانا کھلاتا ہے وہ گویا حکومت اور بیت المال کی اعانت کرتا ہے اس لئے قیدی چاہے کافر بھی ہو اس کو کھانا کھلانا ثواب ہوگا خصوصاً ابتدائے اسلام میں توقیدیوں کا کھانا پینا اور ان کی حفاظت عام مسلمانوں میں تقسیم کر کے ان کے ذمہ کردی جاتی تھی جیسے غزوہ بدر کے قیدیوں کیساتھ معاملہ کیا گیا۔
Top